پاکستانفیچرڈ پوسٹ

کورونا ویکسین درآمد کرنے کی اجازت لیکن کمپنیوں کو کس بات کی کھلی چھوٹ دیدی گئی؟ موذی وباء کے شکار افراد کے لئے بری خبر آگئی

وفاقی حکومت کی جناب سے کورونا ویکسین درآمد کرنے والی کمپنیوں کو من پسند قیمت مقرر کرنے کی کھلی چھوٹ مل گئی

کورونا ویکسین درآمد کرنے کی اجازت لیکن کمپنیوں کو کس بات کی کھلی چھوٹ دیدی گئی؟ اس حوالے سے موذی وباء کے شکار افراد کے لئے بری خبر آگئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی کابینہ کی جانب سے وزارت صحت کے اصرار پر کورونا ویکیسن کی قیمت مقرر کرنے کی چھوٹ دی گئی، جس کے لیے کورونا ویکسین درآمد کرنے والی کمپنیوں کو ڈرگ پرائسنگ پالیسی اور ڈرگ ایکٹ 1976سے مستثنی قرار دیا گیا ہے۔ میڈیا ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ وزارت صحت نے وفاقی کابینہ سے کہا کہ بہت سے طبقات کورونا ویکسین کے حوالے سے حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں ہیں جو کہ پرائیویٹ مارکیٹ سے ویکیسن خریدیں گے، جن کے لیے کورونا ویکیسن کی قیمت مقرر نہیں کرسکتے کیوں کہ ہمارے پاس اس حوالے سے کسی بھی قسم کے بینچ مارک نہیں ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزارت صحت کی سفارش پر کابینہ نے کہا کہ اس سے ویکیسن کی قیمتیں بڑھ جائیں گی اور کمپنیاں عوام کا استحصال کریں گی، جس کی وجہ سے حکومت کو تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا، تاہم وزارت صحت کی جانب سے اصرار کیا گیا کہ فی الحال 6 ماہ تک کورونا ویکسین کی قیمت مقرر نہ کی جائے، جس کے بعد حکومت کی جانب سے کورونا ویکسین درآمد کرنے والی کمپنیوں کو ڈرگ پرائسنگ پالیسی اور ڈرگ ایکٹ 1976سے مستثنی قرار دیا گیا۔

دوسری جانب سندھ حکومت نے چین سے کورونا ویکسین کی دو کروڑ ڈوز لینے کا فیصلہ کر لیا، تفصیلات کے مطابق شہر قائد میں واقع چینی قونصل خانے میں وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے چینی قونصل جنرل لی بیجن سے ملاقات کی تھی جس میں سیکریٹری صحت ڈاکٹر کاظم جتوئی بھی موجود تھے۔ اس موقع پر وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہا کہ سندھ میں کرونا ویکسی نیشن کے لیے 2 کروڑ ڈوز کی ضرورت ہے، اور حکومت براہ راست چین سے دو کروڑ ڈوز خریدنا چاہتی ہے۔ وزیر صحت سندھ عذرا پیچوہو نے کہا کہ لوگوں کی زندگی محفوظ بنانے کے لیے ویکسی نیشن کو فعال رکھنا ضروری ہے، ہم ویکسین کی براہ راست خریداری کی اجازت کے لیے وفاق سے بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا پاکستان میں کرونا کے خاتمے کے لیے چین کا تعاون قابل تحسین ہے، عذرا پیچوہو نے چین کو سندھ میں اسپتال اور ہیلتھ فیسلیٹیشن نیٹ ورک بنانے کی دعوت بھی دی، اور کہا چین سندھ میں طبی سہولتوں اور ہیلتھ ٹیکنالوجی میں مدد فراہم کرے۔ چین کے قونصل جنرل نے وزیر صحت سندھ کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی اور لی بیجن نے کہا سندھ میں ہیلتھ ٹیکنالوجی فراہمی میں تعاون پر چینی حکومت سے بات کروں گا۔ ملاقات میں سندھ کے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکلز کو چین کی ٹریڈیشنل چائنیز میڈیسن کی تربیت کے لیے چین بھیجنے پر اتفاق کیا گیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button