پاکستانفیچرڈ پوسٹ

بے نامی اکاؤنٹس کے بعد بے نامی لگژری گاڑیوں کا سکینڈل بھی سامنے آگیا تارہ ترین سکینڈل میں ملوث کردار بھی بے نقاب، تہلکہ خیز خبر منظر عام پر آگئی

تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ نوابشاہ بے نظیر آباد کے ایک رہائشی عبدالغفار نامی شخص کے نام پر 12 مہنگی گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں

بے نامی اکاؤنٹس کے بعد بے نامی لگژری گاڑیوں کا سکینڈل بھی سامنے آگیا‘تارہ ترین سکینڈل میں ملوث کردار بھی بے نقاب، تہلکہ خیز خبر منظر عام پر آگئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایف بی آر کے بے نامی زون تھری کراچی نے بے نامی اکاونٹس کے بعد بے نامی گاڑیاں رکھنے کا انکشاف کیاہے۔ اس ضمن میں ایف بی آر نے بے نامی گاڑیوں کا ڈیٹا بھی مرتب کیا جس کے بعد 20 بے نامی گاڑیوں کے کیسز درج کیے گئے۔ بے نامی گاڑیوں کی نشاندہی کے بعد کی جانے والی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ نوابشاہ بے نظیر آباد کے ایک رہائشی عبدالغفار نامی شخص کے نام پر 12 مہنگی گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں۔ ایف بی آر حکام نے عبدالغفار نامی ملزم سے رابطہ کرکے ایڈجیوڈیکیشن اتھارٹی کے سامنے پیش کیا تو عبدالغفار نے بتایا کہ اس کی کوئی جائیداد نہیں، اور نہ ہی اس کا کوئی بینک اکانٹ ہے، جب کہ بے نامی مہنگی گاڑیاں بھی اس کی ملکیت نہیں ہیں، بلکہ ان مہنگی گاڑیوں کی رجسٹریشن کے لیے اس کے شناختی کارڈ کا غیرقانونی طور پر استعمال کیا گیا ہے، بے نامی ایجیوڈیکیٹنگ اتھارٹی نے بے نامی زون کراچی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔

حکام کے مطابق بے نامی مہنگی گاڑیوں میں 2 مرسٹیز بینز، 2 پراڈو، 2 پی ایم ڈبلیو کے علاوہ ایک کیڈیلیک، 5 کرولا بھی شامل ہیں۔ بے نامی زون تھری نے مقدمات کا اندراج کرنے کے بعد بے نامی گاڑیاں رکھنے والے افراد کو اپنے حق میں دلائل دینے اور اپیل دائر کرنے کے لیے 45 دن کی مہلت دی تھی جو منگل 8 فروری 2021 کو ختم ہوگئی ہے اور اس مقررہ مدت میں بے نامی گاڑیوں کے کسی بھی مالک نے نہ رابطہ کیا اور نہ ہی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جس کے بعد بے نامی زون نے بدھ سے ان گاڑیوں کی ضبطگی کا عمل شروع کردیاہے۔ واضح رہے کہ ان 20 بے نامی گاڑیوں کی مالیت 20 کروڑ روپے ہے جنہیں ضبط کرکے نیلام کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button