پاکستانفیچرڈ پوسٹ

جو کرپٹ حکمران جماعت میں شامل ہو جائے وہ صادق و امین لیکن جو اپوزیشن کے ساتھ ہو وہ ……؟، عوامی نیشنل پارٹی کے ثمر ہارون بلور نے سوال اٹھا دیا

اب عمران خان صاحب نے موصوف سے استعفا تو لے لیا مگر کیا استعفا لینا کافی ہے ان لوگوں کے خلاف کارروائی نہیں ہونی چاہیے

جو کرپٹ حکمران جماعت میں شامل ہو جائے وہ صادق و امین لیکن جو اپوزیشن کے ساتھ ہو وہ ……؟، عوامی نیشنل پارٹی کے ثمر ہارون بلور نے سوال اٹھا دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اب ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد یہ تو واضح ہو گیا ہے کہ سینیٹر کی خرید و فروخت ہوتی ہے اور یہ سب عوام کے لیے نہیں بلکہ پیسے کا کھیل رچانے کے لیے سب کیا جاتا ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ قانون سازی کرنے والے معتبر لوگ بھی پیسے کے سامنے بک جاتے ہیں اور لوگ اربوں روپے دے کر نشستیں خریدتے ہیں۔اب عمران خان صاحب نے موصوف سے استعفا تو لے لیا مگر کیا استعفا لینا کافی ہے ان لوگوں کے خلاف کارروائی نہیں ہونی چاہیے اور وہ لوگ جو 2018سے ایوان میں بیٹھے ہوئے ہیں اور وہ جینوئن لوگ نہیں بلکہ پیسوں سے سیٹ خرید کر آئے ہیں کیا انہیں ایوان میں بیٹھنے کی اجازت ہونی چاہیے اس کا فیصلہ بھی حکومت کو کرنا ہو گا تاہم اسی حوالے سے بات کرتے ہوئے ثمر ہارون کا کہنا تھا کہ محض استعفا نہیں بلکہ کڑا احتساب لینا چاہیے تھا۔

سینیٹ انتخابات ووٹ کی خریدوفروخت معاملے پر عوامی نیشنل پارٹی کی رکن اسمبلی ثمرہارون بلور نے اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی وزیرقانون سلطان محمد سے صرف استعفی نہیں لیناچاہیے بلکہ ان کو تاحیات نااہل کیا جائے۔ترجمان اے این پی خیبرپختونخوا ثمرہارون بلور نے کہا کہ یہ اسی پارٹی کا رکن تھا جنہیں کرپشن پر حکومت سے الگ کیا گیا تھا تاہم وہی رکن جب پی ٹی آئی کا حصہ بن گیا تو انہیں وزارت قانون کا قلمدان دیا گیا۔ پی ٹی آئی ڈرائی کلین مشین بن چکی ہے، کرپٹ ٹولہ آج پی ٹی آئی کا حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کی پارلیمانی سیاست کیلئے شرمناک دن ہے۔یہ صرف کچھ جھلکیاں سامنے آئی ہیں۔ جو کرپٹ پی ٹی آئی میں شامل ہو وہ صادق اور امین بن جاتا ہے اسی ڈر کی وجہ سے پی ٹی آئی آرڈیننس لائی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے آنے سے کرپشن بڑھی اور سیاست سے شائستگی ختم ہوئی۔

مگر افسوس اس بات کا ہے کہ سب سے زیادہ کرپٹ افراد آج بھی پی ٹی آئی میں ہیں اوریہی لوگ شفافیت کا نعرہ بھی بلند کرتے ہیں۔انہیں اپنے ضمیر میں جھانکنے کی ضرورت ہے اور احتساب صرف اپوزیشن کا نہیں پہلے اپنی منجی تھلے ڈانگ پھیر لینی چاہیے۔جب حکومت کو پتا چلا ہے کہ ان کی صفوں میں جگہ خالی ہونے لگی ہے تبھی انہوں نے شو آف ووٹنگ کا طریقہ اپنایا ہے تاکہ ایوان میں ان کی اکثریت قائم ہو سکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button