پاکستان

ریکوڈک منصوبہ‘ پاکستان نے کس ادارے سے کتنی رقم لی اور کتنے پیسے بطور جرمانہ ادا کیے؟ ہوشر باء رپورٹ سامنے آنے کے بعد طوفان برپا ہوگیا

پاکستان نے ذخائر کی تلاش کیلئے 28 برس قبل ریکوڈک منصوبے کا آغاز کیا لیکن اس سے ملک کو کسی فائدے کے بجائے چھ ارب ڈالر کا جرمانہ ہوا

ریکوڈک منصوبہ‘ پاکستان نے کس ادارے سے کتنی رقم لی اور کتنے پیسے بطور جرمانہ ادا کیے؟ ہوشر باء رپورٹ سامنے آنے کے بعد طوفان برپا ہوگیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع معدنیات کے ذخائر کے بارے میں دعوی کیا جاتا ہے کہ دنیا میں وہ کاپر اور سونے کی سب سے بڑی کانوں میں سے ایک ہیں جن پر آج تک مکمل انداز میں کام شروع نہیں ہو سکا ہے۔ پاکستان کی حکومت نے ان ذخائر کی تلاش کے لیے 28 برس قبل ریکوڈک منصوبے کا آغاز کیا لیکن اس سے ملک کو کسی فائدے کے بجائے ناصرف چھ ارب ڈالر کا جرمانہ ہوا بلکہ سرمایہ کاری سے متعلق تنازعات کو نمٹانے کے لیے ثالثی کے دو بین الاقوامی اداروں میں مقدمہ بازی پر خطیر اخراجات بھی ہوئے ہیں۔ ثالثی کے بین الاقوامی فورمز پر یہ معاملہ اب بھی زیر التوا ہے۔ گذشتہ برس بین الاقوامی ثالثی ٹریبیونل نے پاکستان پر صوبہ بلوچستان میں سونے اور تانبے کے کروڑوں ڈالر مالیت کے ریکوڈک پراجیکٹ کے مقدمے میں تقریبا چھ ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا تھا۔

یاد رہے کہ پاکستان کی عالمی ثالثی ٹریبونل میں سنہ 2019 کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست ابھی بھی زیر سماعت ہے جس ٹریبیونل نے پاکستان کو ریکوڈک پراجیکٹ میں ٹی سی سی کو لیز دینے سے انکار کرنے پر قصور وار ٹھہرایا تھا۔ واضح رہے کہ اس فیصلے کے تناظر میں برٹش ورجن آئی لینڈ (بی وی آئی)کی ایک عدالت نے نیویارک کے روزویلٹ ہوٹل اور پیرس کے سکرائب ہوٹل سمیت پاکستان کی قومی ایئرلائن (پی آئی اے)کی ملکیت والی تین کمپنیوں کے شیئرز کو آسٹریلوی ٹیتھان کاپر کمپنی (ٹی سی سی)کی درخواست پر رواں برس سات جنوری کو منجمد کر دیا تھا۔ پاکستان کی جانب اس منصوبے سے متعلق قانونی لڑائی پر اب تک اربوں روپے کے اخراجات کیے جا چکے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button