پاکستان

"ایسا کچھ نہیں ہے”۔۔۔ جرمن برانڈ پورشے نے پاکستان میں فراڈ کی تردید کر دی

گاڑیاں بنانے والی جرمن کمپنی پورشے پاکستان نے گاڑیوں کی بکنگ میں لگنے والے الزامات پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پورشے پاکستان کے سی ای او کے پاس کوئی رقم واجب الادا نہیں ہے۔

 پورشے پاکستان نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ پورشے اے جی نے غیر قانونی طور پر دو سال سے پاکستانی صارفین کو گاڑیاں فراہم کرنے سے انکار کر رکھا ہے، سپلائی روکنے کے اقدامات پورشے پاکستان کو دیوالیہ اور بدنام کرنے کی ایک کوشش تھی، جس کا مقصد اس کاروبار کو بااثر اور متنازع بزنس گروپ کو منتقل کرنا تھا۔ پورشے پاکستان نے پاکستان میں پورشے اے جی کا یہ اقدام قانونی طور پر چیلنج کر رکھا ہے، پورشے پاکستان نے 2020 کے وسط میں پورشے اے جی کے خلاف لندن کی بین الاقوامی ثالثی عدالت میں ثالثی کی درخواست دائر کی تھی۔

دوسری طرف پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم ابوذر پر الزام ہے کہ اس نے پرفارمنس لمیٹڈ کے نام پر سینٹر بنا کر پورشے گاڑیوں کی بکنگ پر کروڑوں روپے لیے اور سینٹر بند کردیا ،اس کے خلاف 7 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ پورشے گاڑیاں دنیا کی مہنگی ترین گاڑیوں میں شمار ہوتی ہیں اور پاکستانی روپے میں ان کی قیمت ساڑھے 3 کروڑ سے ساڑھے 9کروڑ تک ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button