پاکستان

مسیحا درندگی پر اتر آئے، عارف میموریل ہسپتال گلویڑہ کے ڈاکٹروں کا کمال‘ لاکھوں روپے کے عوض پتہ کا آپریشن کرنے کی بجائے جگر کی نالی کاٹ دی، پولیس کی ملزمان سے ملی بھگت، لواحقین رل گئے‘ جان سے مار دینے کی دھمکیاں

مریض کے پتہ کا آپریشن کرتے ہوئے جگر کی نالی کاٹ دی، دوسرے ہسپتال کی رپورٹس لے جانے کے بعد لواحقین کو زدو کوب اور ہراساں کیا گیا

لاہور (راشد سعید سے) مسیحا درندگی پر اتر آئے، عارف میموریل ہسپتال گلویڑہ لاہور کے ڈاکٹروں کا کمال، لاکھوں روپے وصول کر کے پتہ کا آپریشن کرنے کی بجائے جگر کی نالی کاٹ دی، حالت ناساز ہونے پر مریض در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور، متعلقہ تھانے درخواست دینے کے باوجود کوئی شنوائی نہ ہوسکی، لواحقین انصاف کے لئے دربدر بھٹکنے لگے۔ تفصیلا ت کے مطابق محمدوقار ولد مختار احمد نے تھانہ کاہنہ لاہور میں دی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 24 نومبر 2020ء کو میرے والد کے پیٹ میں اچانک درد ہوا جس پر انہیں عارف میموریل ہسپتال لے جایا گیا جہاں پر سرجری کے پروفیسر ڈاکٹر احسن خان نے میرے والد کو چیک کرنے کے بعد ہسپتال داخل کرلیا اور مجھے اور میرے ساتھی محمد یونس ولد محمد حسین کو اپنے دفتر بلوا کر کہا کہ مریض کی حالت بہت خراب ہے ہمیں ان کے پتہ کا آپریشن کرنا پڑے گا جس پر مورخہ 25 نومبر 2020ء کو ڈاکٹر احسن خان نے ہمیں دوبارہ اپنے دفتر بلوایا اور مختلف کاغذات پر دستخط کرنے کا کہا اور کچھ دیر بعد پروفیسر نے میرے والد کا آپریشن کر دیا اور پیٹ پر ایک ڈیرن لگا دی اور ہمیں بتایا کہ اب آپ کا مریض بالکل ٹھیک ہیں اور مورخہ 27 نومبر 2020ء کو ڈسچارج کر دیا جس کے بعد میں اپنے والد کو گھر لے آیا لیکن آپریشن کے بعد جو ڈیرن لگائی گئی تھی اس سے مسلسل پانی رسنے لگا جس پر مور خہ 3 دسمبر 2020ء کو میں اپنا والد کو دوبارہ عارف میموریل ہسپتال لے کر گیا جس کے بعد ڈاکٹر نے میرے والد کو دوبارہ ہسپتال میں داخل کر لیا مگر میرے والد کی طبیعت میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ محمد وقار کا مزید کہنا تھا کہ 27 دسمبر 2020ء کو عارف میموریل ہسپتال سے میرے والد کو دوبارہ ڈسچارج کر دیا گیا لیکن ان کی طبیعت ٹھیک ہونے کی بجائے دن بدن مزید بگڑتی جا رہی تھی جس کے بعد میں اپنے والد کو نیشنل ہسپتال لاہور لے گیا جہاں پر ڈاکٹر محمود ایاز نے میرے والد کا ایم آر سی ایم ٹیسٹ کیا جس کی رپورٹ میں واضح طور پر درج تھا کہ آپریشن کرنے والے ڈاکٹروں نے مریض کی جگر کی نالی کاٹ دی ہے جس کے بعد نیشنل ہسپتال کے ڈاکٹر نے دوبارہ آپریشن کر کے میرے والد کی جان بچائی۔ محمد وقار کا کہنا تھا کہ میرے رشتے دار عدنان ولد اکبر اور زوہب ولد اقبال شکایت لے کر ایم ڈی عارف میموریل ہسپتال کے پاس گیا تو انہیں دفتر میں بٹھا کر پروفیسر ڈاکٹر احسن خان کو بلوایا گیا اور دروازہ بند کر 6 سے 7 افراد نے ان کو زدوکوب کرنا شروع کر دیا اور ان سے کاغذات اور رپورٹس چھین لیں اور تقریباً 4 گھنٹے حبس بے جا میں رکھنے کے بعد حلف لیا کہ یہ کسی کو کچھ نہیں بتائیں گے پھر ان کو جانے دیا گیا۔ محمد وقار نے وزیراعظم عمران خان، وزیراعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب اور سی سی پی او سمیت اعلیٰ عہدیداروں سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں انصاف فراہم کیا جائے۔

arif memorial hospital2arif memorial hospital7 arif memorial hospital3 arif memorial hospital4 arif memorial hospital5 arif memorial hospital6

متعلقہ خبریں

Back to top button