پاکستانفیچرڈ پوسٹ

کشمالہ طارق کی بیٹے کو بچانے کی کوششیں رنگ لانے لگیں‘ جاں بحق ہونے والے 4 افراد کے لواحقین کو کس طرح راضی نامہ پر مجبور کیا‘ بڑی خبر سامنے آگئی

ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے چار افراد میں سے تین کے لواحقین سے راضی نامہ ہو چکا ہے

کشمالہ طارق کی بیٹے کو بچانے کی کوششیں رنگ لانے لگیں‘ جاں بحق ہونے والے 4 افراد کے لواحقین کو کس طرح راضی نامہ پر مجبور کیا‘ بڑی خبر سامنے آگئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے جی-11 میں کشمیر ہائی وے کے ایک سگنل پر تیز رفتاری گاڑی کی ٹکر سے مہران کار میں سوار 4 نوجوان جاں بحق جبکہ ایک موٹرسائیکل سوار سمیت 2 افراد زخمی ہوگئے۔واقعہ کا مقدمہ پولیس تھانہ رمنا میں اس حادثے میں زخمی ہونے والے شخص مجیب الرحمن کی مدعیت میں وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسانی کشمالہ طارق کے بیٹے اذلان کے خلاف درج کیا گیا۔ آج عدالت میں اسی مقدمے کی سماعت ہوئی۔اسلام آباد کی عدالت کے ایڈیشنل سیشن جج شیخ محمد سہیل نے کیس کی سماعت کی۔ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے چار افراد میں سے تین کے لواحقین سے راضی نامہ ہو چکا ہے۔جب کہ سرکاری وکیل نے کشمالہ طارق کے بیٹے اذالان کی ضمانت کی مخالف کرتے ہوئے کہا کہ ابھی ملزم کے پیش کردہ لائسنس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ 3 افراد کی حد تک راضی نامہ ہوا ہے تو ورثا کے بیان حلفی سامنے نہیں آئے۔سرکاری وکیل نے استدعا کی کہ ایک متوفی کے ورثا سے ملزم کا کوئی راضی نامہ نہیں ہوا ہے، چار افراد کی جان گئی ہے۔ضمانت کی درخواست منسوخ کی جائے۔واضح رہے کہ اس مقدمے کے مدعی کے مطابق وہ اپنے ساتھیوں انیس شکیل، فاروق احمد، حیدر علی اور ملک عادل کے ہمراہ مانسہرہ سے انسداد منشیات فورس کے لیے انٹرویو دینے کے لیے اسلام آباد آئے تھے۔

ایف آئی آر کے مطابق سگنل پر سفید رنگ کی لیکسز گاڑی نے ان کی مہران کار کو ٹکر ماری جس سے کار پلٹی اور آگے موجود موٹرسائیکل سے ٹکرائی اور اس کے نتیجے میں کار میں سوار افراد کے علاوہ موٹر سائیکل سوار بھی شدید زخمی ہوا۔ مدعی نے بتایا کہ جب انہیں کار سے نکالا جارہا تھا تو جائے وقوع پر موجود لوگ گاڑی کے ڈرائیور کا نام اذلان(کشمالہ طارق کا بیٹا)بتارہے تھے۔ بعدازاں لوگوں نے زخمیوں کو پمز ہسپتال منتقل کیا تاہم ہسپتال پہنچنے پر چاروں مذکورہ بالا نوجوان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔مذکورہ واقعے کی متعدد ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں اور عوام کی جانب سے سخت غم و غصے کا اظہار کیا گیا جس پر اسلام آباد پولیس کی جانب سے ایک ٹوئٹر پیغام میں بتایا گیا کہ ڈرائیور اور مذکورہ گاڑی پولیس کی تحویل میں ہے۔اسلام آباد پولیس نے یقین دہانی کروائی کہ پولیس قانون کے مطابق عمل کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کرے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button