پاکستان

جسٹس عیسیٰ نےرواں ہفتہ میں کیسزکی سماعت کیوں نہیں کی؟

عدالتی دفتر کا کہنا تھا مذکورہ نوٹ ملنے کے بعد اسی روز 12 فروری کو نظرِ ثانی شدہ روسٹر جاری کردیا تھا

سپریم کورٹ نے اس تاثر کو رد کردیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو 15 فروری سے شروع ہونے والے ہفتے میں سماعت کا موقع نہیں دیا گیا اور کہا کہ جج نے خود ہی چیمبر کا کام کرنے کا انتخاب کیا ہے۔ ایک بیان میں سپریم کورٹ کے دفتر نے وضاحت کی کہ 9 فروری کو عدالتی روسٹر جاری کیا گیا جس میں بینچ نمبر 4 جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سید منصور علی شامل پر مشتمل تھا۔ تاہم جسٹس منصور علی شاہ کی ہدایت پر ان کے پرسنل سیکریٹری نے 12 فروری کو رجسٹرار آفس ایک نوٹ بھجوایا جس میں بتایا گیا کہ جسٹس منصور علی شاہ طبی بنیادوں پر بینچ کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے۔

عدالتی دفتر کا کہنا تھا مذکورہ نوٹ ملنے کے بعد اسی روز 12 فروری کو نظرِ ثانی شدہ روسٹر جاری کردیا تھا جس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ساتھ جسٹس یحییٰ آفریدی بینچ نمبر 4 کا حصہ تھے۔ تاہم اسی اثنا میں جسٹس قاضٰ فائز عیسیٰ کے سینیئر پرسنل سیکریٹری کی جانب سے بھی 12 فروری کو ایک نوٹ موصول ہوا جس میں بتایا گیا تھا کہ چوں کہ جسٹس منصور علی شاہ ایک ہفتے کے لیے اسلام آباد میں دستیاب نہیں اس لیے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 15 فروری سے شروع ہونے والے ہفتے میں چیمبر کا کام کریں گے۔ اس نوٹ پر چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے کورٹ روسٹر دوبارہ تبدیل کیا اور 15 سے 19 فروری تک جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو چیمبر کا کام کرنے کی اجازت دے دی۔

البتہ اس سے اگلے ہفتے یعنی 22 سے 26 فروری کے عدالتی روسٹر میں بینچ نمبر 4 جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس یحیٰی آفریدی پر مشتمل ہے۔ دو روز قبل پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین خوش دل خان نے سپریم کورٹ پر اس کے 11 فروری کے حکم پر نظرِ ثانی کرنے کے لیے زور دیا تھا جس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو وزیرعظم عمران خان سے متعلق کیسز سننے سے روک دیا ہے۔

خیال رہے کہ 11 فروری کو چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد پر مشتمل 5 رکنی بینچ نے وزیراعظم کی جانب سے اراکین اسمبلیوں کو مبینہ فنڈز دینے پر لیے گئے از خود نوٹس کی سماعت میں حکم دیا تھا کہ چوں کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ذاتی حیثیت میں وزیراعظم کے خلاف درخواست دائر کر رکھی ہے اسلیے وہ وزیراعظم سے متعلق کوئی کیس نہ سنیں۔ دوسری جانب چف جسٹس پاکستان نے سپریم کورٹ اسلام آباد میں کیس رجسٹریشن ڈیسک کا افتتاح کیا اور جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں آئی امور کمیٹی کے کردار کو سراہا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button