پاکستان

سیاست میں کرپشن کی ٹرالی کب سے چل رہی ہے؟ کون رکاوٹ بنا؟کس نے کاروبار کیا؟ سینئر صحافی مظہر عباس نے سیاست کے سوداگروں کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا

ہر چند سال بعد کوئی سدا لگاتا ہوا آتا ہے ووٹ دے دو ووٹ، نوٹ لے لو نوٹ اس ٹرالی پر رکھے ہوئے نوٹوں پر کسی جماعت کا نام نہیں لکھا ہوتا

سیاست میں کرپشن کی ٹرالی کب سے چل رہی ہے؟ کون رکاوٹ بنا؟کس نے کاروبار کیا؟ سینئر صحافی مظہر عباس نے سیاست کے سوداگروں کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا۔

تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی مظہر عباس نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ یہ کرپشن کی ٹرالی ہے رکنے کا نام ہی نہیں لیتی۔ جہاں کسی نے اگر مگر کی تو اس پر رکھے ہوئے ایک بڑے سے بیگ سے رقم نکال کر اس کے حوالے کی اور آگے بڑھ گئی۔ مسئلہ زیادہ سنگین ہوا تو پورا بیگ ہی حوالے کردیا۔ پھر دوسرا بیگ آگیا۔ اب کاروبار میں ضمیر نام کی کوئی چیز ہوتی نہیں کہ آدمی حرام کھاتے ہوئے ایک بار آسمان کی طرف ہی دیکھ لے۔ البتہ فرق صرف اتنا آیا ہے کہ پہلے آڈیو لیک ہوتی تھی اب ویڈیو۔ رہ گئی بات 2018 کی تو ڈھٹائی اتنی ہے کہ اعتراف بھی کرتے ہیں،پیسہ لینے کا اور دینے یا لوٹانے سے انکار بھی۔میں کم سے کم چالیس سال سے اس ٹرالی کو چلتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ ہر چند سال بعد کوئی سدا لگاتا ہوا آتا ہے ووٹ دے دو ووٹ، نوٹ لے لو نوٹ اس ٹرالی پر رکھے ہوئے نوٹوں پر کسی جماعت کا نام نہیں لکھا ہوتا۔ یہ کرنسی سب کے لئے ہوتی ہے۔ بس بدلے میں یہ ضمیر نامی چیز اس کے پاس گروی رکھوانی پڑتی ہے جو ووٹ دینے کے بعد اسے واپس کردی جاتی ہے۔ بے ضمیری میں ضمیر بیچنے کی ضرورت اکثر اوقات پڑتی ہے۔ پہلے پہل شرمندگی سے کم از کم نظریں نیچی کرلیتے تھے۔ اب ڈھٹائی سے آکر کہتے ہیں کہ پیسے لئے تھے کیوں واپس کروں؟ اس حمام میں سب ننگے ہیں کچھ تو ایسیہی رہنا چاہتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button