پاکستان

عمران خان کی جیت ہار میں بدل جائے گی یا نہیں؟ لیکن وہ گھبراہٹ اور خوف کا شکار کیوں ہیں؟ بی بی سی نے بہت سے سوال اٹھا دیئے

144 ارکان کے صوبائی ایوان میں سو سے زائد نشستیں رکھنے والی پی ٹی آئی کی پوزیشن بظاہر خیبر پختونخوا میں ہر لحاظ سے مضبوط دکھائی دے رہی ہے

عمران خان کی جیت ہار میں بدل جائے گی یا نہیں؟ لیکن وہ گھبراہٹ اور خوف کا شکار کیوں ہیں؟ بی بی سی نے بہت سے سوال اٹھا کر نیا تہلکہ مچا دیا ہے۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق قریبا ایک سال قبل خیبر پختونخوا کے سینئر وزیر عاطف خان کو دو دیگر وزرا شہرام خان اور شکیل خان کے ہمراہ پارٹی کے خلاف سرگرمیوں کے الزام میں صوبائی کابینہ سے نکال دیا گیا تھا۔ ان تین لوگوں کی صوبائی کابینہ سے فراغت کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے ہر رہنما کی زبان پر ایک ہی بات تھی اور وہ یہ کہ دو تہائی سے زیادہ اکثریت کے ہوتے ہوئے تین لوگوں کے جانے سے کیا فرق پڑتا ہے؟ لیکن کچھ تو وجہ ہے کہ سینیٹ کے انتخابات قریب آتے ہی فارغ کیے گئے عاطف خان کو صوبے کے گورنر اور وزیر اعلی کی برابر کی کرسی پر بٹھا دیے گئے؟ اور ایسی کیا مجبوری آن پڑی کہ برسراقتدار پاکستان تحریک انصاف کو دو تہائی سے زیادہ اکثریت بھی اب ناکافی لگنے لگی۔

144 ارکان کے صوبائی ایوان میں سو سے زائد نشستیں رکھنے والی پی ٹی آئی کی پوزیشن بظاہر خیبر پختونخوا میں ہر لحاظ سے مضبوط دکھائی دے رہی ہے اور اپوزیشن جماعتوں کو اتحاد کی صورت میں بھی کوئی راہ سجھائی نہیں دے رہی۔ مگر سوال بدستور اپنی جگہ موجود ہے کہ ایک اکیلے ایم پی اے (عاطف خان)کو وزیراعظم کے سامنے کرسی پر بٹھانے کے لیے گورنرسندھ عمران اسماعیل کو کردار ادا کرنے کی ضرورت کیوں پڑ گئی؟ عمران اسماعیل کو سندھ ہاؤس میں عاطف خان اورگورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان سے کیوں ملنا پڑا؟ اس کا مطلب تو یہی نکلتا ہے کہ حکومتی پارٹی میں معاملات اتنے بھی قابو میں نہیں جتنے ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button