پاکستانفیچرڈ پوسٹ

حکومت نے تجارتی نقصان کو کس حد تک بڑھا دیا، آنے والے دنوں میں اشیاء کتنے فیصد مہنگی ہوں گی، ہائی وولٹیج جھٹکا دے دیا

مجموعی درآمدی بل میں اشیائے خوردونوش کا حصہ پچھلے سال 11.16فیصد سے 15.84فیصد تک پہنچ گیا ہے

حکومت نے تجارتی نقصان کو کس حد تک بڑھا دیاہے اور اب آنے والے دنوں میں اشیاء کتنے فیصد مہنگی ہوں گی، اس حوالے سے ہائی وولٹیج جھٹکا دے دیا گیا ہے۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹ اسٹکس(پی بی ایس)کی جانب سے مرتب کردہ اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں 21-2020 کے 7ماہ میں اشیائے خور و نوش کا درآمدی بل 51.9 فیصد اضافے کے ساتھ 4.64 ارب ڈالر رہا جس نے تجارتی خسارے کو توقع سے کہیں زیادہ بڑھا دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پی بی ایس کے اعداد و شمار کے مطابق مجموعی درآمدی بل میں اشیائے خوردونوش کا حصہ پچھلے سال 11.16فیصد سے 15.84فیصد تک پہنچ گیا ہے جس سے ملک کو فوڈ سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے درآمدات پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ بین الاقوامی منڈی میں چند مصنوعات کی قیمتوں میں کمی آرہی ہے جو ملک میں درآمدی افراط زر میں کمی کا سبب بنے گی۔ تاہم تجارتی خسارہ بڑھتا جارہا ہے کیونکہ نومبر 2020 کے بعد سے ملک کے مجموعی درآمدی بل میں اضافہ ہورہا ہے جس کی بنیادی وجہ کھانے پینے کے سامان کے درآمدی بل میں اضافہ ہے، امپورٹ بل اس سال 7 مہینوں میں 7.17فیصد اضافے سے 29.27 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جبکہ پچھلے سال کے اسی مہینوں میں 27.31 ارب ڈالر تھا۔ تمام مصنوعات کے کھانے پینے کے درآمدی بل نے جائزے کے دوران اس کی قدر اور مقدار میں اضافہ کا عندیا دیا ہے جو ملکی پیداوار میں قلت کا واضح اشارہ ہے۔

فوڈ گروپ کی درآمد میں اہم حصہ گندم، چینی، خوردنی تیل، مصالحہ، چائے اور دالوں کا رہا، خوردنی تیل کی درآمد میں مقدار، قیمت اور قیمت کے لحاظ سے جائزہ لیا گیا گیا تو اس عرصے کے دوران کافی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ پام آئل کی درآمد کی بات کی جائے تو رواں سال کے 7 مہینوں میں قیمت 36.59فیصد اضافے کے ساتھ 1.3ارب ڈالر تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال کے اسی مہینوں کے مقابلے میں 1 ارب ڈالر تھا، مقدار کی بات کی جائے تو اسی دورانیے میں پام آئل کی درآمد میں 9.7فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ گھریلو صارفین کے لیے پچھلے کچھ مہینوں میں سبزی گھی اور کھانا پکانے کے تیل کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے، وزارت خزانہ نے پہلے ہی وزارت صنعت کو ہدایت کی ہے کہ وہ گھریلو صارفین کے لیے قیمتوں پر قابو پانے کے لیے تیل پیدا کرنے والوں کے ساتھ یہ مسئلہ اٹھائے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button