پاکستانفیچرڈ پوسٹ

بھارت کے بعد پاکستان میں بھی کسان سڑکوں پر نکل آئے، کتنے افراد کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا؟ ضلعی انتظامیہ کی ناقابل یقین حرکت پر ملک بھر میں جگ ہنسائی

کسانوں نے اپنے مطالبات کے حق میں ٹریکٹر ریلی نکالی تو ضلعی انتظامیہ نے 14 معلوم اور 170 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا

بھارت کے بعد پاکستان میں بھی کسان سڑکوں پر نکل آئے، کتنے افراد کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا؟ ضلعی انتظامیہ کی ناقابل یقین حرکت پر ملک بھر میں جگ ہنسائی ہوئی۔

تفصیلات کے مطابق کسانوں نے اپنے مطالبات کے حق میں ٹریکٹر ریلی نکالی تو ضلعی انتظامیہ نے 14 معلوم اور 170 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا،کسانوں کی جانب سے نکالی جانے والی ٹریکٹر ریلی کی ایف آئی آر اسسٹنٹ کمشنر پاکپتن خاور بشیر کی مدعیت میں تھانہ فرید نگر میں درج کی گئی۔ مقدمے کے متن میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ کسانوں نے ریلی بنا اجازت کے نکالی، پنجاب سانڈ سسٹم ایکٹ کی خلاف ورزی کی اور اشتعال انگیز تقاریر کیں، اس سلسلے میں کسان اتحاد پنجاب کے صدر چوہدری رضوان اقبال نے بتایا کہ ہم نے اپنے مطالبات کے لیے جمہوری حق استعمال کرتے ہوئے احتجاج کیا،نہ کسی جگہ پر سڑک بند کی اور نہ ہی کسی کو تکلیف دی، اس کے باوجود ایف آئی آر کا ندراج آمرانہ روش کا عکاس ہے۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کسان اتحاد کی بڑی ٹریکٹر ریلی فرید نگر سے ہوتی ہوئی ریلوے گراؤنڈ پہنچی جس کی قیادت صدر کسان اتحاد پنجاب چوہدری رضوان اقبال کر رہے تھے، ریلوے گرانڈ پہنچ کر چوہدری رضوان نے اپنے مطالبات کے حوالے سے باقاعدہ تقریر کی اور کہا کہ 31 مارچ تک مطالبات نہ مانے گئے تو لاہوراوراسلام آباد کی جانب بڑا ٹریکٹر مارچ کریں گے۔ کسانوں کی ٹریکٹر ریلی کے خلاف درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ کسان اتحاد نے بغیر اجازت ریلی نکال کر ڈنڈوں اور سوٹوں کے ذریعے طاقت کا غیر قانونی مظاہرہ کیا۔ چودھری رضوان اقبال کے مطابق ہمارے بنیادی تین مطالبات ہیں جن میں ڈی اے پی کھاد کی قیمت میں کمی، زرعی ٹیوب ویلوں پر موجودہ حکومت کی جانب سے عائد کیے گئے ٹیکسز کا خاتمہ اور گندم کی امدادی قیمت کم از کم دو ہزار روپے فی من شامل ہیں۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق کسان اتحاد پنجاب کے صدر کا کہنا ہے کہ ڈی اے پی کھاد کی قیمت پانچ ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، زرعی ٹیوب ویل کی بجلی کی قیمت گذشتہ دور حکومت میں پانچ روپے فی یونٹ اور ٹیکس فری تھی لیکن موجودہ حکومت نے دو ٹیکسز عائد کر کے اسے 13 روپے فی یونٹ تک پہنچا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گندم کی قیمت 18 سو روپے کرنے کا عندیہ دیا گیا لیکن وہ بھی کم ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button