پاکستانفیچرڈ پوسٹ

نوازشریف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان رابطے بحال، مستقبل کے سیاسی منظر نامہ پر بات چیت مکمل کرلی گئی، وزیراعظم عمران خان کے لئے خطرے کی گھنٹی بج گئی

نواز شریف کا اسٹیبلشمنٹ کیساتھ رابطہ‘پیغامات کا بھی تبادلہ‘آگے کیا ہوتا ہے اس کا مجھے نہیں پتہ‘ نواز شریف کہہ رہے ہیں کہ ان کی بیٹی کیساتھ سختی نہ کی جائے

نوازشریف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان رابطے بحال، مستقبل کے سیاسی منظر نامہ پر بات چیت مکمل کرلی گئی، وزیراعظم عمران خان کے لئے خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی ہارون الرشید نے کہا کہ نواز شریف کا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطہ ہے۔پیغامات کا تبادلہ بھی ہوا ہے۔آگے کیا ہوتا ہے۔اس کا مجھے نہیں پتہ۔ نواز شریف کہہ رہے ہیں کہ ان کی بیٹی کے ساتھ سختی نہ کی جائے۔ انہیں گرفتار نہ کیا جائے۔انہیں کچھ روز کے لیے باہر جانے کی اجازت دی جائے۔ہارون الرشید نے مزید کہا کہ نواز شریف کے لیے پیلٹ لیٹس کی جو رپورٹیں بنائی گئی تھیں، وہ جعلی تھیں، انہیں این آر او دیا گیا تھا۔اس کا ہی تو اعجاز الحق بھی کہہ رہے ہیں، اب عمران خان کہتے ہیں کہ ان کی چاہے حکومت چلی جائے۔این آر او نہیں دیں گے اگر مریم نواز باہر چلی جائیں تو ملک میں کچھ بہتری آئے گی لیکن عمران خان کی سیاسی سوچ نہیں۔

عمران خان سے کہا گیا ہے کہ انہیں جانے دیا جائے لیکن انکار کر دیا۔قبل ازیں ن لیگ کی سابقہ حکومت کا حصہ رہنے والے سینئر سیاستدان اعجاز الحق کی جانب سے سابق وزیراعظم نواز شریف سے متعلق بڑا انکشاف کیا گیا ہے۔ پاکستان کے سابق آرمی چیف و صدر مملکت مرحوم ضیا الحق کے صاحبزادے اعجاز الحق کی جانب سے انکشاف کیا گیا ہے کہ نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ خود بھی رابطے میں تھے۔ جیل اور ہسپتال کے اندر انہیں پیغامات آتے جاتے رہے۔ مسلم لیگ ضیا کے سربراہ کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی پلیٹ لیٹس کی تبدیلی ہی انہیں دیا جانے والا این آر او تھا۔ سابق وزیراعظم کو این آر او دینے میں لازمی طور پر اسٹیبلیشمنٹ ملوث تھی، تاہم بعد میں وزیراعظم عمران خان بھی اس پلان میں شامل ہوگئے ہوں گے۔ اعجاز الحق نے مزید انکشاف کیا ہے کہ اب حکومت مخالف تحریک پی ڈی ایم میں شامل کچھ جماعتیں بھی این آر او کر چکی ہیں، لانگ مارچ سے قبل ہی پی ڈی ایم کا بوریا بستر گول ہو جائے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button