پاکستان

ڈسکہ الیکشن کے دوران قانون نافذ کرنے والے ادارے کہاں تھے اور کیا کر رہے تھے؟ ڈاکٹر شاہد مسعود نے عمران خان کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا

ڈسکہ میں ہونے والے ضمنی انتخاب کے دوران ایسا محسوس ہوا کہ وہاں کوئی قانون نافذ کرنے والا ادارہ موجود ہی نہیں ہے

ڈسکہ الیکشن کے دوران قانون نافذ کرنے والے ادارے کہاں تھے اور کیا کر رہے تھے؟ ڈاکٹر شاہد مسعود نے عمران خان کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا تھا کہ ڈسکہ پنجاب کا بہت خوبصورت علاقہ ہے لیکن بد قسمتی اور افسوس کی بات ہے کہ ضمنی الیکشن کیروزوہاں پرناقابلِ یقین حدتک کشیدگی رہی،لوگ اسلحہ لیکرسرعام گھوم رہے تھے،فائرنگ کر رہے تھے اورکوئی اِنہیں پوچھنے والانہیں تھا،ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ آج کے دن ڈسکہ میں قانون نافذ کرنے والا کوئی ادارہ موجود ہی نہیں ہے،انسانی جانیں چلی گئی ہیں،سب کو سوچنا چاہئے کہ یہ ایک الیکشن ہی تھا نہ۔انہوں نے کہا کہ ڈسکہ میں جتنی کشیدگی رہی اس کی توقع نہیں کی جا رہی تھی،انتخابی نتائج ابھی آ رہے ہیں اور کچھ آئیں گے،اللہ کرے کہ جو نتائج آئیں وہ سب قبول کر لیں، نتائج آئیں گے تو ہی پتا چلے گا کہ حکومت کیا بات کرتی ہے اور اپوزیشن کا موقف کیا ہوتا ہے؟۔

واضح رہے کہ این اے 75 سیالکوٹ کے ضمنی انتخاب میں شدید کشیدگی دیکھنے میں آئی اور نامعلوم افراد کی فائرنگ سے دو افراد جاں بحق اور سات زخمی ہو گئے،پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن فائرنگ کا الزام ایک دوسرے پر عائد کرتی رہی جبکہ عثمان ڈار نے رانا ثنا اللہ کے خلاف فائرنگ کا مقدمہ درج کروانے کا اعلان کیا ہے جبکہ مسلم لیگ ن کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا مقدمہ وزیراعلی عثمان بزدار، آئی جی پنجاب اور سی پی او سیالکوٹ کے خلاف درج ہونا چاہئے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button