پاکستان

قومی اسمبلی اجلاس، 64 سالہ جے یو آئی کے رکن کی 13 سالہ لڑکی سے شادی، تحقیقات کا مطالبہ

جے یو آئی کے سربراہ ایوان میں تردید کردیں کہ ایسا کچھ نہیں ہوا، اس خبر پر دنیا میں پاکستانی پارلیمان کا مذاق اڑایا جارہا ہے

قومی اسمبلی میں ایک شادی کی گونج، وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ ایک پریشان کن خبر سامنے آئی ہے، جمعیت علمائے اسلام کے 64 سال کے رکن نے 13 سال کی بچی سے شادی کی ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ گزارش ہے جے یو آئی کے سربراہ ایوان میں تردید کردیں کہ ایسا کچھ نہیں ہوا، اس خبر پر دنیا میں پاکستانی پارلیمان کا مذاق اڑایا جارہا ہے۔ قومی اسمبلی اجلاس کے جلاس میں جے یو آئی کے رکن قومی اسمبلی کی 13 سالہ لڑکی سے شادی پر تحقیقات کا مطالبہ سامنے آگیا۔ قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی صدارت میں ہوا تو سابق فاٹا میں چار خواتین کو قتل کیے جانے کا معاملہ جے یو آئی کے رکن زاہد اکرم درانی نے اٹھایا۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں نے واقعے کی سخت مذمت کی اور وزیر مملکت علی محمد خان نے ایوان کو یقین دلایا کہ واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ ایوان میں پیش کی جائے گی۔

تحریک انصاف کے رکن سیف الرحمن نے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کی گرفتاری کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ یہاں انسانی حقوق کی بڑی باتیں ہورہی ہیں اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی کو چار ضرب چار فٹ کے کمرے میں رکھا گیا، سانپ بھی چھوڑا گیا لوگوں کے گھروں پر چھاپے مارے جارہے ہیں۔ اس پر پی پی پی رکن راجہ پرویزاشرف نے کہا کہ یہ سندھ اسمبلی کا مسئلہ ہے وہیں اٹھایا جائے تاکہ وہاں کوئی جواب بھی دے۔ فواد چوہدری نے جے یو آئی کے ایک رکن قومی اسمبلی کا نام لیے بغیر کہا کہ انہوں نے 65سال کی عمر میں 13سال کی لڑکی سے شادی کی ہے، مولانا فضل الرحمن تحقیقات کرائیں، بھارتی میڈیا ہماری پارلیمان کا مذاق اڑا رہا ہے کیا یہ چائلڈ میرج ایکٹ کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ وفاقی وزیر فواد چوہدری کی تقریر جاری تھی کہ پی پی رکن آغا رفیع اللہ نے کورم کی نشاندہی کردی، اسپیکر نے گنتی کروائی تو کورم پورا نہ نکلا اور اجلاس پیر کی سہہ پہر چار بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button