پاکستان

صادق سنجرانی نے چیئرمین سینیٹ کے عہدے کا حلف اٹھا کر مخالفین کی بولتی بند کر دی

چیئرمین سینیٹ کے ا نتخاب میں صادق سنجرانی کو 48 اور یوسف رضا گیلانی کو 42 ووٹ ملے جبکہ 8 ووٹ مسترد ہوئے

حکومت کے نامزد کردہ صادق سنجرانی ایک بار پھر چیئرمین سینیٹ منتخب ہوگئے ہیں جس کے بعد انہوں نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا کر اپوزیشن اتحاد کی بولتی بند کر دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیئرمین سینیٹ کے ا نتخاب میں صادق سنجرانی کو 48 اور یوسف رضا گیلانی کو 42 ووٹ ملے جبکہ 8 ووٹ مسترد ہوئے۔ 7 ووٹرز نے یوسف رضا گیلانی کے نام کے اوپر مہر لگائی جس کی وجہ سے یہ ووٹ مسترد ہوئے جبکہ ایک ووٹر نے دونوں امیدواروں کے آگے مہر لگائی۔ چیئرمین سینیٹ منتخب ہونے کے بعد صادق سنجرانی نے عہدے کا حلف اٹھالیا ہے۔ سینیٹ کا اجلاس مظفر حسین شاہ کی سربراہی میں ہوا جس میں ارکان چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کی گئی اور اس ضمن میں جے یو آئی کے رہنما اور پی ڈی ایم کی طرف سے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے امیدوار عبدالغفور حیدری نے پہلا ووٹ کاسٹ کیا۔ ارکان کو حرف تہجی کے اعتبار سے ووٹنگ کے لیے بلایا گیا۔

چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لیے 98 ارکان نے ووٹ کاسٹ کیا ہے جبکہ جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق خان نے اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کیا جس کے بعد ان کا 5 بجے تک انتظار کیا گیا۔ ووٹنگ کے عمل کے دوران جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد کا نام دو مرتبہ پکارا گیا لیکن وہ ووٹ ڈالنے کے لیے نہیں آئے۔ ووٹنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد گنتی کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔ اجلاس کے آغاز پر پریزائیڈنگ افسر مظفر حسین شاہ نے اراکین کو ووٹ ڈالنے کا طریقہ کار بتایا اور غلطی کی صورت میں ووٹ کاسٹ کرنے سے پہلے سیکرٹری سینیٹ کو آگاہ کرنے کی ہدایت کی۔ پریزائیڈنگ افسر نے کہا کہ موبائل فون، کیمرہ اور کوئی بھی الیکٹرانک ڈیوائس کے ساتھ پولنگ بوتھ میں جانے کی اجازت نہیں تھی۔ اب منتخب ہونے والا چیئرمین سینیٹ اپنے عہدے کا حلف لے کر ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کا عمل شروع کرائے گا۔ چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب خفیہ رائے شماری کے ذریعے کیا جائے گا۔

اپوزیشن اتحاد کے پاس 51 ارکان کی اکثریت ہے جب کہ حکومتی اتحاد کے پاس 47 اراکین ہیں اور جماعت اسلامی نے کسی کو بھی ووٹ نہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت نے صادق سنجرانی کے لیے محسن عزیز کو پولنگ ایجنٹ مقرر کیا ہے جب کہ یوسف رضا گیلانی نے فاروق ایچ نائیک اور عبدالغفور حیدری نے کامران مرتضی کو پولنگ ایجنٹ مقرر کیا ہے۔ سینیٹ کے 100 کے ایوان میں 99 سینیٹرز شریک ہوں گے، سابق وزیر خزانہ اور (ن)لیگ کے رہنما اسحاق ڈار سینیٹ کا حلف نہ اٹھانے کے باعث اجلاس میں شریک نہیں ہوسکتے جب کہ جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد ووٹنگ میں حصہ نہیں لیں گے۔ اس سے قبل سینیٹ اجلاس کا آغاز صبح 10 بجے ہوا جس میں پریزائیڈنگ آفیسر مظفر حسین شاہ نے 48 نومنتخب اراکین سینیٹ سے حلف لیا جس کے بعد تمام نو منتخب سینیٹرز نے رول آف ممبر پر دستخط کیے جس کے بعد اجلاس 3 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب سے قبل پولنگ کی جگہ کیمرے لگے ہونے کا الزام سامنے آیا۔ پی پی کے سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نید عوی کیا کہ سینیٹ الیکشن میں پولنگ بوتھ پر کیمرہ لگا ہوا ہے جب کہ انہوں نے اس حوالے سے ایک تصویر بھی ٹوئٹر پر شیئر کی۔ اپوزیشن نے پولنگ بوتھ میں کیمرہ نکلنے پر پولنگ بوتھ کو ہی اکھاڑ دیا اور شدید احتجاج کیا۔

خیال رہے کہ پی ڈی ایم نے چیئرمین سینیٹ کے لیے یوسف رضا گیلانی اور ڈپٹی چیئرمین کیلیے عبدالغفور حیدری کو نامزد کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ اور خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے مرزا محمد آفریدی کو ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نامزد کیا گیا ہے۔ اس سے قبل سینیٹ میں چیئرمین کا عہدہ حکومتی حمایت یافتہ صادق سنجرانی اور ڈپٹی چیئرمین کا عہدہ پیپلز پارٹی کے سلیم مانڈوی والا کے پاس تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button