پاکستانفیچرڈ پوسٹ

مولانا فضل الرحمن اور سابق صدر آصف زرداری کے درمیان ایک بار پھر رابطہ‘ پی ڈی ایم کے مستقبل کے متعلق کیا فیصلہ کیا گیا؟ سب کچھ کھل کر سامنے آگیا

حزب اختلاف کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم)کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے پر اتفاق کیاگیا

مولانا فضل الرحمن اور سابق صدر آصف زرداری کے درمیان ایک بار پھر رابطہ‘ پی ڈی ایم کے مستقبل کے متعلق کیا فیصلہ کیا گیا؟ سب کچھ کھل کر سامنے آگیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے ایک ہفتے میں دوسری بار ٹیلی فون پر بات کی اور حزب اختلاف کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم)کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے پر اتفاق کیا۔ دونوں رہنماؤں کے مابین ٹیلیفونک گفتگو کے چند گھنٹوں بعد اہم پیشرفت ہوئی جب پیپلز پارٹی نے جمعہ کو لاہور میں قومی احتساب بیورو (نیب) میں پیشی کے موقع پر اپنے کارکنوں کو پاکستان مسلم لیگ (ن)کی نائب صدر مریم نواز کے ساتھ جانے کا اعلان کیا۔

پارٹی قائدین اور کارکنوں کو پوری تیاریوں کے ساتھ ریلی میں شامل ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ وہ خود پارٹی کے قافلے کی قیادت کریں گے۔ پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی رہنماں اور اراکین کو پی ڈی ایم کی کسی بھی جماعت خصوصا مسلم لیگ (ن)کے خلاف بیانات جاری کرنے سے روک دیا ہے۔ یہ فیصلہ 21 مارچ کو مولانا فضل الرحمن اور مسلم لیگ (ن)کے رہنماؤں کے درمیان جاتی امرا میں ملاقات کے دوران کیا گیا تھا کہ پی ڈی ایم کے اتحادی جماعتوں کے قائدین مریم نواز کے ہمراہ ہوں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمن دونوں کا موقف تھا کہ اس مرحلے پر اپوزیشن کا اتحاد ٹوٹنے سے حکمران جماعت کو فائدہ پہنچے گا اور موجودہ نظام کو مضبوط بنائے گا جس کے خلاف اپوزیشن جماعتیں گزشتہ کئی مہینوں سے جدوجہد کر رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button