پاکستان

شوگر مافیا کیا گل کھلانے لگی؟ چینی کی قیمتوں میں کیسے ہوشرباء اضافہ کیا گیا عوام پر بجلیاں گرانے والی حقیقت کھل کر سامنے آگئی، سب دنگ رہ گئے

گزشتہ ایک سال کے دوران شوگر مافیا کی جانب سے قیمتوں کے تعین کے ذریعے 110 ارب روپے کی کمائی کا انکشاف کیا ہے

شوگر مافیا کیا گل کھلانے لگی؟ چینی کی قیمتوں میں کیسے ہوشرباء اضافہ کیا گیا عوام پر بجلیاں گرانے والی حقیقت کھل کر سامنے آگئی، سب دنگ رہ گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)نے گزشتہ ایک سال کے دوران شوگر مافیا کی جانب سے قیمتوں کے تعین کے ذریعے 110 ارب روپے کی کمائی کا انکشاف کیا ہے اور اس میں ملوث افراد پر ہاتھ ڈالنے کے لیے 20 ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں. رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے کے انسداد بدعنوانی کے دائرے میں پی ٹی آئی رہنما جہانگیر ترین کے جے ڈی ڈبلیو گروپ اور لاہور کے گورمیٹ بیکرز اینڈ سویٹس پرائیوٹ لمیٹڈ کے خلاف پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی)کے سیکشن 420، 468، 471 اور 109 سمیت اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کی دفعہ 3/4 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئیں۔

ایف آئی آر کے مطابق شوگر مافیا کے خلاف تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ شوگر انڈسٹری، شوگر بروکرز اور ان کے سٹا ایجنٹوں (قیاس آرائی پرائسنگ پلیئرز)، شوگر ملوں کے ساتھ مل کر شوگر سٹا مافیا بن گئے ہیں اور واٹس ایپ گروپس پر خفیہ انداز میں کام کر رہے ہیں تاکہ بے ایمانی اور دھوکہ دہی کے ذریعے چینی کی قیمتوں کو مصنوعی طور پر بڑھایا جاسکے، اور چینی کی قلت پیدا کی جاسکے۔ انکوائری سے معلوم ہوا ہے کہ سٹا مافیا نے گزشتہ ایک سال میں چینی کی قیمت میں 20 روپے فی کلو کا فراڈ کیا تھا (جو 11 فروری 2020 کو روپے فی کلو تھی اور 21 مارچ 2021 کو 90 روپے فی کلو ہوچکی ہے) اور اب وہ رمضان میں اسے 110 روپے فی کلو تک پہنچانے کی سازش کر رہے ہیں تحقیقات کے دوران یہ انکشاف ہوا ہے کہ یہاں تک کہ ملک کے سر فہرست رجسٹرڈ کاروبار، جیسے گورمیٹ بیکرز اینڈ سویٹس پرائیوٹ لمیٹڈ لاہور، کو سٹا مافیا کے ایجنٹوں نے بڑے منظم انداز میں ان کی چینی کی اصل کھپت اور کاروبار کا ٹرن اوور چھپا کر بڑے اکانٹنگ اور ٹیکس فراڈ میں مدد فراہم کی ہے۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ پرائسنگ پلیئر ملک آباد علی سے تشویش کی گئی جس میں انکشاف ہوا کہ انہیں شوگر ملز کے مالکان اور عہدیداروں نے مدد فراہم کی ہے لہذا تحقیقات کے دوران ان کے کردار کا پتہ لگایا جاسکتا ہے ایک عہدیدار نے بتایا کہ شوگر کے بڑے گروپس بشمول پنجاب اسمبلی میں جہانگیر ترین اور اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کی سربراہی میں چلنے والے گروپس کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے واضح رہے کہ ایف آئی اے لاہور گزشتہ سال سے اربوں روپے کے شوگر اسکینڈل کی تحقیقات کررہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button