پاکستان

آئی ایم ایف کی سخت ترین شرائط کے تحت قرض عام سے کتنے پاکستانی متاثر ہوں گے؟ ہوش اڑا دینے والی حقیقت سامنے آنے کے بعد پریشانی کی لہر دوڑ گئی

بجلی کا بل چند مہینے پہلے پانچ سے چھ ہزار روپے آ رہا تھا تاہم ایک دو مہینوں میں یہ بڑھ کر دس ہزار روپے تک جا پہنچا ہے

آئی ایم ایف کی سخت ترین شرائط کے تحت قرض عام سے کتنے پاکستانی متاثر ہوں گے؟ ہوش اڑا دینے والی حقیقت سامنے آنے کے بعد پریشانی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں درآمدی اشیا کی کلیئرنس کے شعبے سے وابستہ رضوان احسان کے بجلی کے بل میں گزشتہ چند مہینوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ رضوان احسان کا شمار مڈل کلاس طبقے میں ہوتا ہے اور وہ کراچی میں ایک فلیٹ میں رہائش پذیر ہیں جن میں بشمول ان کے خاندان کے چار افراد رہتے ہیں۔ رضوان کے مطابق ان کا بجلی کا بل چند مہینے پہلے پانچ سے چھ ہزار روپے آ رہا تھا تاہم ایک دو مہینوں میں یہ بڑھ کر دس ہزار روپے تک جا پہنچا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ کراچی میں موسم کی تبدیلی کی وجہ سے کچھ تھوڑے بہت بل کا بڑھنا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن اس کا دگنا ہو جانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ بجلی کے بلوں میں یہ اضافہ ملک میں مہنگائی کی شرح کو بھی بڑھا رہا ہے اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی پاکستان کے لیے پچاس کروڑ ڈالر کی قسط جاری کرنے کی منظوری کے بعد یہ مزید بڑھ سکتی ہے کیونکہ اس قسط کے لیے حکومت نے جن شرائط پر رضامندی ظاہر کی ہے وہ معاشی ماہرین کے نزدیک بہت سخت ہیں۔ حکومت نے جن شرائط پر رضامندی ظاہر کی ہے ان میں بجلی کے شعبے میں نرخوں کو بڑھانا اور ٹیکسوں پر چھوٹ کا خاتمہ بھی شامل ہے۔

ماہرین معیشت کے مطابق آنے والے دنوں میں اس مہنگائی پر قابو پانے کے لیے سٹیٹ بینک شرح سود میں اضافہ کر سکتا ہے جو ملکی معاشی پیداوار کو بری طرح متاثر کرے گا اور مصنوعات کو مہنگا کرے گا۔ پاکستان کو پچاس کروڑ ڈالر کی قسط جاری کرنے کی منظوری دینے کے بعد آئی ایم ایف نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ اتھارٹیز (پاکستانی حکام) نے کلیدی شعبوں میں اصلاحات کا عمل جاری رکھا جن میں سٹیٹ بینک کی خود مختاری، پاور سیکٹر میں اصلاحات، کارپوریٹ ٹیکس وغیرہ شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button