پاکستانفیچرڈ پوسٹ

میں ذہنی مریضہ ہوں، مجھے کسی کی تصویر کی نہیں بلکہ علاج کی ضرورت ہے‘ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا نو عمر لڑکی کی پکار نے سب کو ہلا کر رکھ دیا

ماموں آئے اور انھوں نے میرے ہاتھ رسی سے باندھ دیے۔ مجھے سیڑھیوں سے بری طرح سے اتارا اور ایمبولینس میں ڈال کر ہسپتال لے گئے

میں ذہنی مریضہ ہوں، مجھے کسی کی تصویر کی نہیں بلکہ علاج کی ضرورت ہے‘ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا نو عمر لڑکی کی پکار نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔

تفصیلات کے مطابق نو عمر لڑکی عینی کا کہنا تھا کہ میں چیخ رہی تھی، یہاں سے جاؤ، اور میں نے دروازہ بھی بند کر دیا تھا، مجھے لگ رہا تھا کوئی مجھے اور میرے گھر والوں کو مارنا چاہتا ہے، تب ابو نے ماموں کو بلایا، ماموں آئے اور انھوں نے میرے ہاتھ رسی سے باندھ دیے۔ مجھے سیڑھیوں سے بری طرح سے اتارا اور ایمبولینس میں ڈال کر ہسپتال لے گئے، وہ میرا پہلا اٹیک(دورہ پڑنا)تھا۔ عینی کی عمر اس وقت 16 برس تھی جس وقت انھیں پہلی بار شیزوفرینیا کا اٹیک ہوا۔ شیزوفرینیا ایک ذہنی مرض ہے جس سے انسانی سوچ، احساسات اور برتا متاثر ہوتے ہیں۔

عینی نے بتایا کہ اس وقت گھر والوں کو فوری طور پر سمجھ نہیں آیا کہ مجھے کیا ہوا ہے، بعد میں جب ذکر ہوا تو یہ بات کہی گئی کہ چونکہ میں مغرب کے وقت گھر سے باہر گئی تھی اور ماہواری کے دنوں میں تھی تو مجھ پر جن کا سایہ چڑھ گیا ہے۔ ذہنی امراض کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دیگر امراض کی طرح شیزوفرینیا کا علاج بھی ادویات اور تھیراپی سے کیا جاسکتا ہے۔ طویل مدتی بیماری ہونے کے باوجود اس سے متاثرہ افراد خوشحال زندگی گزار سکتے ہیں مگر عینی کا کہنا ہے کہ ان کی والدہ نے ان کا روحانی علاج شروع کروایا تھا۔ وہ بتاتی ہیں کہ جس دن میں ہسپتال میں زیر علاج تھی، اسی دن انھوں نے مولوی صاحب کو بلایا جنھوں نے تعویز بنا کر دیا اور کہا کے یہ ہمیشہ اپنے گلے میں ڈال کے رکھنا۔

عینی کا کہنا ہے کہ وقتا فوقتا ان کی والدہ ان کو روحانی علاج کے لیے لے جاتی تھیں۔ جہاں ان پر جھاڑ پھونک دی جاتی تھی کیونکہ ان کا خیال تھا کہ عینی پر جن کا سایہ اور نظر ہے۔ وہ مجھے مولویوں کے پاس لے کر جاتی تھیں، جھاڑ پھونک والے کے پاس، اس وقت کسی کو معلوم نہیں تھا، خود مجھے بھی نہیں کہ مجھے شیزوفرینیا ہے۔ بہت برسوں بعد مجھے اندازہ ہوا کے یہ روحانی علاج میری بیماری کا حل نہیں۔ عینی کہتی ہیں کہ میرے گھر والے میری اس حالت کو بیماری نہیں سمجھ رہے تھے اور یہی معاشرے کا عمومی رویہ ہے۔ لوگ ذہنی بیماری کو بیماری نہیں سمجھتے، ان میں شعور کی کمی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button