پاکستان

بچوں کے گلے کاٹنے کی سنسنی خیز واردات، سات سال کی بچی کو خون کا تحفہ دینے والا مسیحا کون تھا؟ رونگٹے کھڑے کر دینے والی بڑی حقیقت بے نقاب ہو گئی

ایس ایچ او عبد الحئی بنگلزئی نے شدید زخمی ہونے والی سات سالہ بچی کشمالہ کو نہ صرف ہسپتال پہنچایا بلکہ اپنا خون بھی عطیہ کیا

بچوں کے گلے کاٹنے کی سنسنی خیز واردات، سات سال کی بچی کو خون کا تحفہ دینے والا مسیحا کون تھا؟ رونگٹے کھڑے کر دینے والی بڑی حقیقت بے نقاب ہو گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق میری زندگی میں خوشی کے جو بڑے لمحات آئے ہیں ان میں سے ایک لمحہ وہ تھا جب موت کو چکمہ دینے والی ایک بچی نہ صرف اپنے پیروں پر میرے سامنے کھڑی تھی بلکہ مجھے ہار بھی پہنا رہی تھی۔ یہ خوشی اتنی بڑی تھی کہ میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکل آئے۔ یہ کہنا تھا کہ کوئٹہ کے نیو سریاب پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او عبد الحئی بنگلزئی کا جنھوں نے ایک واقعے میں شدید زخمی ہونے والی سات سالہ بچی کشمالہ کو نہ صرف ہسپتال پہنچایا بلکہ اس کی جان بچانے کے لیے اپنا خون بھی عطیہ کیا۔ کشمالہ کوئٹہ شہر کے علاقے کلی مینگل آباد کی رہائشی اور مقامی سیاسی کارکن کی صاحبزادی ہیں۔ وہ اپنے چار بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر ہیں۔ 15 مارچ کو ان کے والدین کی عدم موجودگی میں ایک شخص ان کے گھر میں داخل ہوا اور چاروں بہن بھائیوں کا گلا بظاہر یہ سوچ کر کاٹا کہ ان میں سے کوئی بھی زندہ نہ بچ پائے۔

اس واقعے میں دیگر تین بہن بھائی ہلاک ہو گئے لیکن سات سالہ کشمالہشدید زخمی ہونے کے باوجود بچ گئیں۔ نیو سریاب پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او عبد الحئی بنگلزئی نے بتایا کہ انھیں جس وقت اس دلخراش واقعے کی اطلاع ملی تو وہ معمول کے گشت پر تھے۔ انھوں نے بتایا کہ تقریبا شام پانچ بجے کا وقت تھا جب انھیں اطلاع ملی کہ چار چھوٹے بچوں کا گلا کاٹ کر ان کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ میں فورا جائے وقوعہ پر پہنچا تو وہاں جو منظر دیکھا وہ انتہائی دلخراش تھا۔ میں نے اپنی پولیس کی 22 سالہ ملازمت کے دوران بہت سارے جرائم دیکھے ہیں لیکن یہ واقعہ سب سے زیادہ المناک تھا کیونکہ اس واقعے کا شکار بننے والے تمام معصوم اور کمسن بچے تھے۔ انھوں نے کہا کہ چاروں بچے خون میں لت پت تھے جن میں سے تین موقع پر ہی ہلاک ہو چکے تھے۔ عبد الحئی بنگلزئی نے بتایا کہ انھوں نے دیکھا کہ ان میں سے ایک بچی کا گلا کٹا ہوا تھا لیکن اس کی سانس چل رہی تھی۔ ہم نے فورا یہ فیصلہ کیا کہ بچی کی زندگی کو بچایا جائے۔ چونکہ شیخ زید ہسپتال بچی کے گھر کے قریب تھا اس لیے بچی کو پہلے وہاں پہنچایا جائے۔ انھوں نے بتایا کہ بچی کا خون زیادہ بہنے کے باعث انھیں جلد سے جلد ہسپتال پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔

ایس ایچ او عبد الحئی بنگلزئی کے مطابق ہسپتال پہنچانے پر ڈیوٹی ڈاکٹر نے بچی کو دیکھا تو کہا کہ اگر خون کا فورا انتظام ہو جائے تو بچی کی زندگی بچ سکتی ہے۔ عبد الحئی بنگلزئی نے بتایا کہ چونکہ بچی کی زندگی کو خطرہ لاحق تھا اور اس وقت فوری طور پر کہیں اور سے خون کا انتظام کرنا مشکل تھا اس لیے خون دینے کے لیے سب سے پہلے انھوں نے خود کو پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خوش قسمتی سے ان کا خون بچی کے خون سے میچ کر گیا جس پر انھوں نے خون کی ایک تھیلی عطیہ کی لیکن چونکہ یہ ناکافی تھا، اس لیے دو اضافی خون کے بیگز ان کے دو گن مینوں نے بھی دیے۔ عبد الحئی بنگلزئی نے بتایا کہ خون لگنے اور ابتدائی طبی امداد کی فراہمی کے بعد ہی بچی کو شیخ زید ہسپتال سے سول ہسپتال کے ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ بعد میں بچی صحت یابی تک سول ہسپتال ہی میں رہیں جہاں وہ خود اس کی مزاج پرسی کے لیے جاتے رہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button