پاکستان

چینی سکینڈل، حکومت اب جہانگیر ترین کے خلاف کیا کرنے جا رہی ہے؟ ناقابل یقین منصوبہ بندی سامنے آنے پر قومی سیاست میں ایک بار پھر تہلکہ مچ گیا

ایف آئی اے نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین گروپ کے بزنس اور فیملی اکاؤنٹس کا فرانزک آڈٹ کروانے کا فیصلہ کرلیا

چینی سکینڈل، حکومت اب جہانگیر ترین کے خلاف کیا کرنے جا رہی ہے؟ ناقابل یقین منصوبہ بندی سامنے آنے پر قومی سیاست میں ایک بار پھر تہلکہ مچ گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین گروپ کے بزنس اور فیملی اکاؤنٹس کا فرانزک آڈٹ کروانے کا فیصلہ کرلیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق جہانگیر ترین کی ملکیت میں آنے والے کاروبار اے ٹی ایف مینگو فارم لودھراں، جے کے ڈیریز کے علاوہ ان کے بیٹے علی ترین، کمپنی کے عہدیدار رانا نسیم اور جے کے شگر ملز خانیوال کے اکاونٹ کا بھی فرانزک کروایا جائے گا۔ بتایا گیا ہے کہ معروف کاروباری شخصیت جہانگیر ترین کی تینوں بیٹیوں، جہانگیر ترین کے اپنے اکاونٹ اور اے کے ٹی شوگر مل کا اکاونٹ بھی فرانزک آڈٹ کروایا جائے گا۔ یاد رہے کہ ایف آئی اے لاہور نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما معروف سیاستدان اور جے ڈی ڈبلیو کے سی ای او جہانگیر ترین ان کے بیٹے علی ترین اور داماد ولید اکبر فاروقی کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی، میڈیا ذرائع کے مطابق ایف آئی آر میں چینی کی ذخیرہ اندوزی، خوردبورد اور دھوکہ دہی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

ای آئی ار کے متن میں کہا گیا ہے کہ جہانگیر ترین نے جعلسازی سے 3ارب 14 کروڑ روپے ایک بند فیکٹری کو منتقل کیے، جس کا مقصد اپنے اہل خانہ کو فائدہ پہنچانا تھا، یہ رقم 2011-12 میں فاروقی پلپ ملک لمیٹیٹد کمپنی کو منتقل کی گئی، بند فیکٹری میں پیسے لگاکر 3 ارب کی منی لانڈرنگ کی گئی، مذکورہ ایف آئی آر میں جہانگیر ترین کے داماد ولید اکبر فاروقی، شاہد اکبر فاروقی اور کمپنی سیکریٹری محمد رفیق کو نامز دکیاگیا۔ ایف آئی اے لاہور کی طرف سے ایف آئی ار درج کیے جانے پر جہانگیر ترین کا ردعمل آگیا، معاملے کو یکطرفہ کارروائی جب کہ الزامات کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دے دیا، پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے اپنے خلاف ایف آئی آر کا اندراج یکطرفہ کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا مجھ پر اور میرے بیٹے پر عائد کیے گئے تمام الزامات بے بنیاد اور من گھڑت ہیں، نجی آڈٹ فرم پہلے ہی میری کمپینوں کے اکاؤنٹس کو درست قرار دے چکی ہے، تمام شئیرز، کھاتے قانون کے مطابق منتقل کیے، مالی امور پر ہر طرح سے کلین ہوں، اس کے باوجود مقدمے کا اندارج افسوسناک ہے، مقدمے کے اندراج میں حقائق کو نظر انداز کیا گیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button