پاکستانفیچرڈ پوسٹ

مجھے باہر بھیجنے میں اسٹیبلشمنٹ کا اپنا فائدہ تھا وہ نہیں چاہتے تھے کہ پنجاب کو ایک نیا بھٹو مل جائے دوسری بار، نوازشریف، شہباز شریف سے رابطے کی حقیقت کھل گئی

شہبازشریف نے کہا کہ حالات کو دیکھ کر ہی فیصلہ کرنا چاہئے، دیکھیں باقی وعدے پورے نہیں کئے لیکن آپ کو تو جیل سے نکال کر باہر بھیج دیا

مجھے باہر بھیجنے میں اسٹیبلشمنٹ کا اپنا فائدہ تھا وہ نہیں چاہتے تھے کہ پنجاب کو ایک نیا بھٹو مل جائے دوسری بار، نوازشریف، شہباز شریف سے رابطے کی حقیقت کھل گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق شہباز شریف:حالات کو دیکھ کر ہی فیصلہ کرنا چاہئے، دیکھیں باقی وعدے پورے نہیں کئے لیکن آپ کو تو جیل سے نکال کر باہر بھیج دیا۔ نواز شریف:میری وجہ سے انہیں ڈر بھی لگا رہتا تھا کہ کہیں مجھے کچھ ہو گیا تو پنجاب کو ایک نیا بھٹو مل جائے گا، مجھے باہر بھیجنے میں مقتدرہ اور حکومت دونوں کا فائدہ تھا، اب جو مرضی کہیں اس وقت تو سب ہی باہر بھیجنا چاہتے تھے۔ شہباز شریف:یہ سب باتیں درست ہیں لیکن انہوں نے ہمارے ساتھ وعدہ بھی نبھایا، آپ کو باہر جانے دینا بہرحال ایک رعایت تھی، ہمیں یہ احساس کرنا چاہئے، میرا تو اب بھی یہی خیال ہے کہ ہم مفاہمت کے ذریعے موجودہ حکومت گرا سکتے ہیں۔ نواز شریف:شہباز! میں نے تمہاری بات مان لی تھی، مریم اور میں کئی ماہ تک خاموش رہے تاکہ تمہاری مفاہمتی پالیسی کامیاب ہو جائے لیکن وہ تمہیں چکر دیتے رہے، اقتدار کی موجیں کوئی اور اڑاتا رہا۔ شہباز شریف:اگر ہم تھوڑا سا صبر اور کر جاتے، اگر ہم مفاہمت چلاتے رہتے تو جنوری 2021تک عمران خان کا دھڑن تختہ ہو جانا تھا۔ ہماری لڑائی کی وجہ سے اسے فائدہ ہوا اور اس کا اقتدار طول پکڑتا گیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button