پاکستان

پاکستان کو کورونا ویکسین خریدنے کی سہولت شروع کر دی گئی ہے یا اس پر پابندی ہے؟ حیران کن خبر منظر عام پر آنے کے بعد پاکستانیوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی

دوا ساز کمپنیاں اب روس اور چین جیسے ممالک سے کورونا ویکسین درآمد کرکے کمرشل سطح پر بیچ سکیں گی: وفاقی حکومت

پاکستان کو کورونا ویکسین خریدنے کی سہولت شروع کر دی گئی ہے یا اس پر پابندی ہے؟ حیران کن خبر منظر عام پر آنے کے بعد پاکستانیوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ دوا ساز کمپنیاں اب روس اور چین جیسے ممالک سے کورونا ویکسین درآمد کرکے کمرشل سطح پر بیچ سکیں گی۔ پہلے مرحلے میں روس کی اِسپٹنِک ویکسین اور چین کی کین سِنو ویکسین مارکیٹ میں دستیاب ہو جائیں گی۔ اس فیصلے سے ملک میں امیر افراد کو سرکاری طور میں ملنے والے ٹیکوں کے لیے اپنی باری کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا اور وہ جب چاہیں نجی ہسپتالوں میں جا کر ویکسین لگوا سکتے ہیں۔ پاکستان میں پچھلے ایک دن میں 5234 نئے کورونا کیسز ریکارڈ کیے گئے جو اس سال میں روزانہ کی سب زیادہ تعداد ہے۔

پاکستان کے صاحبِ حیثیت حلقوں نے حکومتی فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ تاہم سماجی ماہرین کی طرف سے اسے ملک میں دہرے طبقاتی نظام کی تازہ مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ایک بیان میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے جنرل سیکٹری سجاد قیصر نے کہا،”ہم کمرشل بنیادوں پر ویکسین کی فروخت کی مذمت کرتے ہیں کیونکہ لوگوں کو مفت ٹیکے فراہم کرنا حکومت کا فرض ہے۔” اسی طرح غیر سرکاری تنظیم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشل نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ تنظیم کے مطابق مارکیٹ میں ویکسین کی قیمت عام لوگوں کی پہنچ سے باہر ہو گی اور خدشہ ہے کہ اس سے سرکاری اداروں اور مہنگے نجی ہسپتالوں کے درمیان کرپشن کا نیا سلسلہ شروع ہو جائے۔

سائنس اور ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر فواد چودھری نے سرکاری فیصلے کا دفاع کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت کی پوری کوشش ہو گی کہ وہ ملک کی اٹھانوے فیصد آبادی کو مفت ویکسین پہنچائے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ بقیہ دو فیصد آبادی اگر قطار میں کھڑے ہو کر اپنی باری کا انتظار نہیں کرنا چاہتی تو اس کے پاس ویکسین خرید کر لگوانے کا آپشن ہونا چاہییے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button