پاکستانفیچرڈ پوسٹ

پی ڈی ایم نہیں ٹوٹے گئی کیونکہ ماضی میں بھی اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد برسوں تک چلتے رہے لیکن پاکستان تحریک انصاف کا انجام کیا ہوگا؟ حامد میر کھل کر سامنے آگئے

فی الحال پی ڈی ایم موجودہ حکومت کیلئے کوئی بڑا خطرہ بھی نہیں ہے لیکن تحریک انصاف کی حکومت کیلئے بڑا خطرہ خود عمران خان کے کچھ فیصلے ہیں

پی ڈی ایم نہیں ٹوٹے گئی کیونکہ ماضی میں بھی اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد برسوں تک چلتے رہے لیکن پاکستان تحریک انصاف کا انجام کیا ہوگا؟ حامد میر کھل کر سامنے آگئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی و کالم نگار حامد میر نے کہا ہے کہ جنرل ضیا الحق نے ایم آر ڈی کو کمزور کرنے کیلئے سندھو دیش کے حامی جی ایم سید کی حمایت حاصل کی لیکن 1983میں ایم آر ڈی کی تحریک اپنے جوبن پر پہنچی اور 1988تک ایم آر ڈی قائم رہی۔ پاکستان میں کچھ سیاسی اتحاد توڑنے اور کچھ اتحاد بنانے میں خفیہ اداروں کا کردار بہت اہم رہا ہے۔ پی ڈی ایم کے قیام کو ابھی چھ ماہ ہوئے ہیں، اے این پی کی اس اتحاد سے علیحدگی اہم واقعہ ہے لیکن فوری طور پر پی ڈی ایم کے خاتمے کا امکان نظر نہیں آرہا۔

فی الحال پی ڈی ایم موجودہ حکومت کیلئے کوئی بڑا خطرہ بھی نہیں ہے لیکن تحریک انصاف کی حکومت کیلئے بڑا خطرہ خود عمران خان کے کچھ فیصلے ہیں۔ بدھ کے دن پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے گیارہ ارکان اور قومی اسمبلی میں تین ارکان نے جہانگیر ترین کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ جہانگیر ترین کے ساتھ کھڑے ہو کر وفاقی حکومت پر تنقید کرنے والوں میں پنجاب کے صوبائی وزیر نعمان لنگڑیال سمیت تین صوبائی مشیر بھی شامل تھے۔ رکن قومی اسمبلی راجہ ریاض کا دعوی ہے کہ آنے والے دنوں میں تحریک انصاف کے مزید ارکان قومی و صوبائی اسمبلی جہانگیر ترین کے ساتھ کھڑے ہونے والے ہیں۔ عمران خان اور ان کے وزرا پی ڈی ایم کے اندرونی بحران پر خوش نہ ہوں بلکہ تحریک انصاف کے اندرونی بحران کی فکر کریں کیونکہ یہ بحران شدید سے شدید تر ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button