پاکستانفیچرڈ پوسٹ

آپ کی گرفتاری ہوسکتی ہے‘ یہ اطلاع جہانگی ترین کو کس نے دی‘ ذمہ دار بیورو کریٹ کا نام منظر عام پر آنے کے بعد عمران حکومت نئی مشکل میں گرفتارہو گئی

جہانگیر ترین تو کوشش کرتا رہا ہے، وہ لندن میں بھی رہا ہے لیکن اس کی کوشش ناکام ہوئی ہے، وہ کہتا ہے کہ اعظم خان اور شہزاد اکبر ذمہ دار ہیں

آپ کی گرفتاری ہوسکتی ہے‘ یہ اطلاع جہانگی ترین کو کس نے دی‘ ذمہ دار بیورو کریٹ کا نام منظر عام پر آنے کے بعد عمران حکومت نئی مشکل میں گرفتارہو گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سینئر تجزیہ کار ہارون رشید کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین تو کوشش کرتا رہا ہے، وہ لندن میں بھی رہا ہے لیکن اس کی کوشش ناکام ہوئی ہے، وہ کہتا ہے کہ اعظم خان اور شہزاد اکبر ذمہ دار ہیں لیکن میرے خیال میں کمبینیشن آئی بی چیف اور اعظم خان ہے۔ بہر حال جہانگیر ترین کی ٹھن گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسپیشل برانچ اور آئی بی نے جو رپورٹس دی ہیں ان میں کہا گیا کہ حفیظ شیخ کی شکست میں جہانگیرترین کا بھی ہاتھ ہے۔ جہانگیر ترین کے تعلقات بہت وسیع ہیں۔انہوں نے اراکین اسمبلی کو عدالت میں پیشی سے پہلے ناشتے پر بلایا لیکن اسے ایک وفاقی سیکرٹری نے بتا دیا تھا کہ آپ کی گرفتاری ہوسکتی ہے، اس لیے انہوں نے قبل ازوقت گرفتاری ضمانت کرا لی۔

ہارون رشید نے مزید کہا کہ عمران خان نے ان کے لیے کوئی راستہ نہیں چھوڑا، شوگر ملز مالکان چینی روخت نہیں کرتے،بناتے ہیں جبکہ بروکر بیچتے ہیں۔ قبل ازیں سینٹ الیکشن میں حفیظ شیخ کی ہار کے پیچھے جہانگیرترین کے کردار سے متعلق نیا دعوی کیا گیا۔بتایا گیا ہے کہ حفیظ شیخ کی ہار کے بعد معاملے کی تحقیقات کی جا رہی تھی اور اس پر سب کی نظریں تھیں۔معلوم ہوا ہے کہ جہانگیر ترین مخالف گروپ نے وزیراعظم کو خفیہ رپورٹس پیش کیں۔رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مخدوم احمد محمود کے ذریعے گیلانی کو لاجسٹک سپورٹ دی گئی۔ رپورٹ میں وزیراعظم کو بتایا گیا کہ حکومتی امیدوار حفیظ شیخ کے مقابل یوسف رضا گیلانی کو جہانگیر ترین کی سپورٹ حاصل تھی جس کا ذریعہ مخدوم احمد محمود بنے۔ان کا یوسف رضا گیلانی سے سیاسی تعلق ہے جب کہ جہانگیر ترین کے بھی رشتہ دار ہیں۔عمران خان کو اس کے متعلق ثبوت بھی پیش کئے گئے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads. because we hate them too.