پاکستانفیچرڈ پوسٹ

یہ مرنے والے کون ہیں؟ ان کی تعداد کتنی ہے؟ کتنے خاندانوں کی کفالت کیا کرتے تھے؟ روح کو ٹرپا دینے والی المناک حقیقت کھل گئی، سب حیران رہ گئے

درہِ آدم خیل سے 2011 میں لاپتا ہونے والے کوئلے کی کان کے 16 مزدوروں کی لاشیں احسن خیل ضلع پشاور سے برآمد ہوئی ہیں

یہ مرنے والے کون ہیں؟ ان کی تعداد کتنی ہے؟ کتنے خاندانوں کی کفالت کیا کرتے تھے؟ روح کو ٹرپا دینے والی المناک حقیقت کھل گئی، سب حیران رہ گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ کے سب ڈویژن درہِ آدم خیل سے 2011 میں لاپتا ہونے والے کوئلے کی کان کے 16 مزدوروں کی لاشیں انتہائی دور دراز پہاڑی سلسلے احسن خیل ضلع پشاور سے برآمد ہوئی ہیں۔ ان سب مزدوروں کا تعلق سوات کے علاقے شانگلہ سے ہے۔ یونین کونسل رانیال سے تعلق رکھنے والے پانچ لوگوں کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا جس میں دو سگے بھائی، ایک چچا اور دو آپس میں کزن تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک اور علاقے کے دو بھائی بھی شامل ہیں۔ جن میں ایک بھائی اس وقت ایف ایس سی کے طالب علم تھے۔

پاگوڑی کے علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک ہلاک مزدور عمر زادہ کے چچا شمس اللہ اپنے بھتیجے کی لاش کی شناخت کے لیے درہ آدم خیال میں موجود تھے۔ انھوں نے کہا کہ یہ مزدور احتجاج کررہے ہیں۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ دس سال بعد لاشیں تو مل گئی ہیں۔ اب کم از کم ہم ان کا جنازہ کریں گے۔ ان کو اچھے طریقے سے دفن کریں جس سے ان کے پیاروں کچھ سکون تو مل جائے گا۔ شمس اللہ کا کہنا تھا کہ ان 16 خاندانوں پر کیا بیت رہی تھی، اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ جب بھی کوئی عمر زادہ کے گھر کا دروازہ کھٹکاتا تھا تو اس کی ماں دوڑ کر جاتی تھی اور کہتی تھی کہ عمر زادہ سے متعلق کوئی اطلاع ہوگی۔

عمر زادہ کی تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ اب وہ بڑے ہوچکے ہیں۔ بیوی اور والدین کا حال تو بیان ہی نہیں ہوسکتا۔ یہ 16 لاشیں نہیں 16 خاندانوں سے جڑی ایسی المناک کہانیاں ہیں۔ جن کو سننا اور سنانا ممکن نہیں ہے۔ لیبر یونین کونسل کول مین چراٹ کے جنرل سیکرٹری نور اللہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ یہ مزدور فروری 2011 کو لاپتا ہوئے تھے۔ جس کے بعد ان کا کوئی بھی پتا نہیں چل سکا تھا۔ اس وقت سے اب تک ان کی تلاش جاری تھی۔ تحریک انصاف شانگلہ کے صدر وقار احمد کا کہنا تھا کہ اس وقت 32 مزدوروں کو دہشت گردوں نے اغوا کیا تھا جن میں سے 16 کسی نہ کسی طرح دشوار گزار راستوں سے فرار ہو کر واپس پہچنے میں کامیاب ہوگے تھے اور ان 16 مزدوروں نے واقعے کے متعلق بتایا تھا۔

دہشت گردوں کی جانب سے اغوا کیے گئے مزدوروں کے لیے تاوان بھی طلب کیا جاتا رہا تھا۔ میرا خیال ہے کہ وہ 60 لاکھ روپے مانگ رہے تھے۔ یہ تو مزدور لوگ تھے اتنی رقم ادا نہیں کرسکتے تھے۔ کوئلہ کانوں کے مالکان نے چندہ بھی کیا تھا۔ مگر اس کے بعد اچانک اغوا کرنے والوں کے ساتھ رابطے منقطع ہوگئے تھے۔ اس وقت دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی جاری تھی جس بنا پر شاید اس وقت معاملات آگے نہیں چل سکے تھے۔ اب ان کی لاشیں بر آمد ہوئی ہیں۔ علی باش پاکستان سنٹرل مائن لیبر فیڈریشن صوبہ خیبر پختونخوا کے صدر ہیں۔ وہ بتاتے ہیں اغوا اور ہلاک ہونے والے مزدور درہ آدم خیل کے علاقے کال خیل میں مزدوری کرتے تھے۔ وہاں سے ان کو اغوا کیا گیا تھا۔ان کے لواحقین تلاش جاری رکھے ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی لاشیں انتہائی دور دراز علاقے سے نکال کر لائے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads. because we hate them too.