پاکستان

حکومت گندم کی خریداری اور ذخیرہ اندوزی روکنے کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے؟ وفاقی وزیر فخر امام نے بڑا سچ بے نقاب کرتے ہوئے اپنی ہی حکومت کی لنکا ڈھا دی

ملک میں گندم کی قیمت میں اضافہ اس لیے ہوا ہے کہ عالمی منڈی میں گندم کی قیمت پاکستان میں طے شدہ قیمت سے زیادہ ہے

حکومت گندم کی خریداری اور ذخیرہ اندوزی روکنے کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے؟ وفاقی وزیر فخر امام نے بڑا سچ بے نقاب کرتے ہوئے اپنی ہی حکومت کی لنکا ڈھا دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان میں وفاقی وزیر برائے فوڈ سکیورٹی سید فخر امام کا کہنا ہے کہ ملک میں گندم کی قیمت میں اضافہ اس لیے ہوا ہے کہ عالمی منڈی میں گندم کی قیمت پاکستان میں حکومت کی جانب سے طے شدہ قیمت سے زیادہ ہے۔ بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں سید فخر امام نے بتایا کہ گذشتہ سال جب اپریل اور مئی میں پاکستان میں گندم کی کٹائی کا وقت آیا تو لوگوں نے حکومتی قیمت یعنی 1400 روپے فی من کے حساب سے گندم بیچ دی مگر چند ہفتوں کے اندر ہی یہ جنس پاکستانی منڈیوں خصوصا کراچی اور پشاور میں 1800 روپے سے لے کر 1900 سو روپے میں فروخت ہونے لگی۔ عالمی منڈی میں قیمت زیادہ ہونے کی صورت میں کاشتکاروں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی فصلیں زیادہ منافع کے لیے ملک سے برآمد کریں۔حکومت ملک میں کل پیداوار اور مانگ کے تخمینے کی بنیاد پر کاشتکاروں کو فصلیں برآمد کرنے کی اجازت دیتی ہے لیکن اگر حکومتی تخمینے سے کم پیداوار ہو تو ملک میں گندم کی کمی پیدا ہو سکتی ہے جس صورت میں گندم عالمی منڈی کی قیمت پر درآمد کرنی پڑتی ہے۔

ایک اور دشواری جو حکومت کو پیش آئی وہ تھی کہ گذشتہ سال ملک میں گندم کی پیداوار 25.25 ملین ٹن تھی جبکہ مانگ اس سے تین سے چار ملین زیادہ تھی۔ اس سوال پر کہ اگر عالمی منڈی میں قیمت زیادہ تھی تو حکومت نے کیوں ملک کے اندر قیمت کم طے کی، فخر امام کا کہنا تھا کہ یہ قیمت کاشت کے وقت مقرر کی جاتی ہے اور اس وقت جو ہمارے اداروں نے تخمینہ لگایا تھا یہ قیمت اس کے مطابق طے کی گئی تھی۔ قیمت کو کاشت کے وقت طے کرنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ کاشتکار کے لیے مستقبل کی صورتحال وضع کی جائے۔ اگر حکومتی قیمت کی تسلی کاشتکار کو نہیں دی جائے گی تو ہو سکتا ہے کہ بہت سے کاشتکار زیادہ منافع بخش اور جلد منافع دینے والی فصلیں جیسا کہ سبزیاں وغیرہ اگائیں اور وہ فیصلے کریں جو شاید ان کے لیے زیادہ مفید ہوں مگر قومی سطح پر کم فائدہ مند ہوں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads. because we hate them too.