پاکستان

اگر لوگ رمضان المبارک کے دوران بازاروں میں نکلے تو ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟ وفاقی وزیر اسد عمر نے خبر دار کر دیا‘ شہریوں کو سنسنی خیز ہلچل مچ گئی

لوگ ایس او پیز پر عمل درآمد نہیں کر رہے، شاید لوگ تھک گئے ہیں یا خوف دلوں سے نکل گیا ہے: وفاقی وزیر اسد عمر

اگر لوگ رمضان المبارک کے دوران بازاروں میں نکلے تو ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟ وفاقی وزیر اسد عمر نے خبر دار کر دیا‘ شہریوں کو سنسنی خیز ہلچل مچ گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سربراہ این سی او سی اسد عمر نے کہا کہ تمام ویکسینز کورونا وبا کے خلاف مؤثر ہیں، تاہم ان کے مؤثر ہونے کا صحیح تناسب چار چھ ماہ بعد پتہ لگے گا، کورونا کی دوسری لہر کے دوران ساری سیاسی لیڈر شپ نے جلسے کیے جس سے بڑا نقصان ہوا۔ اسد عمر نے کہا کہ حالانکہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صحت کا شعبہ صوبوں کا موضوع ہے لیکن اٹھارویں ترمیم کے رکھوالوں نے ویکسین کا ایک ٹیکا بھی نہیں لگایا، بچوں کیلئے فی الحال ویکسینیشن کا پلان نہیں بنایا گیا۔ اسد عمر نے مزید کہا کہ لوگ ایس او پیز پر عمل درآمد نہیں کر رہے، شاید لوگ تھک گئے ہیں یا خوف دلوں سے نکل گیا ہے، سچی بات یہ ہے کہ انتظامیہ بھی تھوڑی تھک گئی ہے، کچھ روز سے انتظامیہ نے سختی کی ہے اور آئندہ دنوں میں مزید سختی ہو سکتی ہے، رمضان میں لوگ بازاروں میں نکلے تو سخت اقدامات کرنے پڑیں گے جس سے لوگوں کا روزگار بھی متاثر ہوتا ہے۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ پرائیویٹ سیکٹر سے آنے والی ویکسین 18 ہزار لوگوں کو لگی ہے، عوام کا حق ہے کہ وہ مفت میں حکومت سے ویکسین لگائے، اس کیلئے 150 ملین ڈالر کابینہ نے منظوری دی تھی، پاکستان میں 13 لاکھ سے زیادہ ویکسینیشن ہو چکی ہے اور 9 لاکھ سے زیادہ موجود ہیں، روزانہ 60 سے 70 ہزار ویکسین لگائی جا رہی ہے، عید کے بعد اس تعداد کو بڑھا کر ڈیڑھ سے دو لاکھ تک کرنے کا ارادہ ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads. because we hate them too.