پاکستانفیچرڈ پوسٹ

جسٹس آصف کھوسہ نے میری پیٹھ میں چھرا گھونپا، بات وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کے استعفیٰ تک جا پہنچی، جسٹس فائز عیسیٰ کے گرما گرم دلائل نے سب کو حیران کر دیا

تحریک انصاف کی نظرثانی درخواست میں کہا گیا کہ وہ جج بننے کے اہل ہی نہیں، فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ دینے پر انہیں عہدے سے ہٹاناچاہتے ہیں

جسٹس آصف کھوسہ نے میری پیٹھ میں چھرا گھونپا، بات وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کے استعفیٰ تک جا پہنچی، جسٹس فائز عیسیٰ کے گرما گرم دلائل نے سب کو حیران کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق نظرثانی کیس میں جسٹس قاضی فائز عیسی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی نظرثانی درخواست میں کہا گیا کہ وہ جج بننے کے اہل ہی نہیں، فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ دینے پر انہیں بطور جج سپریم کورٹ کیعہدے سے ہٹاناچاہتے ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے جسٹس قاضی فائز عیسی نظرِ ثانی کیس کی سماعت آئندہ پیر تک ملتوی کر دی۔ دورانِ سماعت جسٹس قاضی فائز عیسی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اس وقت سائے حکمرانی کررہے ہیں، ایسیٹ ریکوری یونٹ قانونی وجود نہیں رکھتا، شہزاد اکبر پی ٹی آئی کارکن ہے، جیل میں ہوناچاہیے،شہزاد اکبر بااثرشخص ہیاس لیے اس سے کوئی نہیں پوچھتا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان میں کیس کی سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی فل کورٹ نے کی۔

جسٹس قاضی فائز عیسی اپنی اہلیہ سرینا عیسی کے ہمراہ عدالت پہنچے۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وزیرِ قانون کیس میں پارٹی ہونے کے باوجود عدالت میں نہیں ہیں، فروغ نسیم نے مجھ پر اور میری اہلیہ پر سنگین الزامات لگائے، میرے خلاف ریفرنس کالعدم قرار دینے کا فیصلہ آئین و قانون پر مبنی تھا، ریفرنس میں معاملہ ایف بی آر کو بھیجنا غیر آئینی تھا۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِ قانون فروغ نسیم نے حلف کی خلاف ورزی کی، انہیں فوری برطرف کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میری اہلیہ کیس میں فریق نہیں تھیں، پھر بھی ان کے خلاف فیصلہ دیا گیا، فروغ نسیم کے لیے عدالت کا احترام نہیں، وزرات ضروری ہے، آرٹیکل 184/3 بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ہے، میری بیٹی، بیٹے کو ایف بی آر نوٹس کا حکم بنیادی حقوق کے زمرے میں نہیں آتا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads. because we hate them too.