پاکستانفیچرڈ پوسٹ

ہلاک ہونے والے اہلکار اپنی بیٹیوں کے لئے گھر سے کیا خریدنے نکلے تھے؟ تحریک لبیک کے مظاہرے میں تشدد سے مرنے والے اہلکارو کی دردناک کہانی منظر عام پر

کانسٹیبل علی عمران جب اپنے آخری ہنگامی ڈیوٹی پر گئے تو جانے سے پہلے انھوں نے اپنی بچوں کو جمع کر کے چوم کر گئے تھے

ہلاک ہونے والے اہلکار اپنی بیٹیوں کے لئے گھر سے کیا خریدنے نکلے تھے؟ تحریک لبیک کے مظاہرے میں تشدد سے مرنے والے اہلکارو کی دردناک کہانی منظر عام پر آگئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور میں حالیہ احتجاج اور مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والے دونوں پولیس اہلکاروں کی کہانی میں ایک چیز واضح یکساں ہے۔ دونوں اپنے گھر والوں کے انتہائی قریب تھے اور بچوں سے بے حد پیار کرتے تھے۔ مگر اگر آپ ان کی کہانیاں دیکھیں تو ایک اور چیز بھی یکساں ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے دونوں کو معلوم تھا کہ ان کی آج واپسی شاید نہ ہو۔ کانسٹیبل علی عمران جب اپنے آخری ہنگامی ڈیوٹی پر گئے تو جانے سے پہلے انھوں نے اپنی بچوں کو جمع کر کے چوما۔ اسی طرح محمد افضل گذشتہ چند روز سے اپنے اہلِ خانہ کو کہہ رہے تھے کہ اگر مجھے کچھ ہو گیا تو مجھے نارووال میں دفن کرنا۔

ان دونوں اہلکاروں کے سوگواران ان کے ساتھ عید منانے ک تیاری کر چکے تھے۔ مگر شاید یہ دونوں اہلکار جانتے تھے کہ یہ خوشی ان کے نصیب میں نہیں ہوگی۔ 53 سالہ پولیس اہلکار، محمد افضل رات کو ہنگامی ڈیوٹی پر جانے سے پہلے اپنی بیٹی کی خواہش پر اس کے لیے خصوصی طور پر دہی بھلے لینے گئے تھے۔ ڈیوٹی پر جاتے وقت انھوں نے گھر والوں سے کہا تھا کہ رات کا کھانا سب اکھٹا کھائیں گے۔ پولیس اہلکاروں کو گھر والوں کے ساتھ اکھٹے کھانا کھانے کا موقع کم ہی ملتا ہے۔

احتشام طارق محمد افضل کے بھتیجے ہیں اور وہ بھی پولیس کانسٹیبل ہیں۔ احتشام طارق نے بی بی سی کو بتایا کہ محمد افضل نے سوگواروں میں پانچ بجے دو بیٹے اور تین بیٹیاں اور بیوہ شامل ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ محمد افضل نے رمضان سے قبل ہی اپنی تینوں بیٹیوں کو ان کی فرمائش کے مطابق عید کے کپڑے واقعے سے دو دن قبل دلائے تھے۔ احتشام طارق کا کہنا تھا کہ مجھے ان کی تینوں بیٹیوں نے بتایا ہے کہ تین چار دن سے ان کے والد اپنے گھر والوں سے کہہ رہے تھے کہ حالات کا کچھ پتا نہیں چلتا ہے، پتا نہیں کس وقت کیا ہو جائے، اگر مجھے کچھ ہو گیا تو مجھے ضلع ناروال نے اپنے آبائی علاقے شیرگڑہ میں اپنے والدین کے قدموں میں دفن کرنا۔

احتشام کا کہنا ہے کہ محمد افضل کی بیٹوں نے انھیں بتایا ہے کہ اس بات پر وہ اپنے والد سے بہت لڑئیں تھیں کہ وہ کیوں ایسی باتیں کر رہے ہیں مگر انھوں نے ہنس کر کہا تھا کہ یہ تو دنیا ہے اس میں کیا پتا چلتا ہے، ویسے ہی بات کررہا ہوں۔ احتشام طارق بتاتے ہیں کہ محمد افضل تھانہ گوال منڈی میں فرائض انجام دے رہے تھے اور ان کو ایمرجنسی ڈیوٹی کے لیے تھانہ شاہدرہ ٹان طلب کیا گیا تھا۔ جب انھیں تھانہ شاہدرہ ٹان طلب کیا گیا تو اس وقت انھوں نے اپنے گھر والوں کو فون کیا اور ان سے کہا کہ اگر ممکن ہو تو سب مل کر کھانا کھاتے ہیں، جس پر ان کے اہل خانہ نے ان کے پسندیدہ کھانے پکائے تھے۔ احتشام طارق کا کہنا تھا کہ جب وہ گھر کی طرف آرہے تھے تو ان کی بیٹی نے فون کیا کہ اس کے لیے دہی بھلے لائے جائیں جس پر وہ گھر کے قریب سے دہی بھلے لانے واپس چلے گئے تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads. because we hate them too.