پاکستان

TLP کا احتجاج،پرتشدد مظاہرے،پولیس اہلکاراغوا

پولیس عہدیداروں نےتصدیق کی کہ لاہورکےیتیم خانہ چوک پرآپریشن جاری ہےلیکن انہوں نےمزید تفصیلات نہیں بتائیں

لاہورکےیتیم خانہ چوک کےاطراف میں کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کےاحتجاجی کارکنوں سےعلاقےکوخالی کرانےکےآپریشن میں 3 افراد جاں بحق جبکہ پولیس اہلکاروں سمیت دیگرمتعدد افراد زخمی ہوگئے۔ خیال رہےکہ مذکورہ علاقےمیں ٹی ایل پی کا احتجاج رواں ہفتےسےجاری ہے۔ ایک ویڈیوپیغام میں کالعدم جماعت کےترجمان شفیق آمینی نےالزام لگایا کہ ‘آج صبح آٹھ بجےلاہورمرکزپرفورسزنے اچانک ہم پرحملہ کیا جس میں ہمارے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد شہید ہوگئی ہےجبکہ متعدد زخمی ہیں’۔ انہوں نےمزید کہا کہ فرانسیسی سفیر کوملک سےبےدخل کرنےاورحکومت کےساتھ طےپانےوالےمعاہدے کےنفاذ تک شہدا کی تدفین نہیں کریں گے۔

دریں اثنا پولیس عہدیداروں نےتصدیق کی کہ لاہورکےیتیم خانہ چوک پرآپریشن جاری ہےلیکن انہوں نےمزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ سوشل میڈیا پرویڈیوزمیں دکھایا گیا کہ لوگ زخمیوں کواٹھا کرلےجارہےہیں تاہم کچھ صارفین نےنشاندہی کی کہ یہ ویڈیوپرانی ہیں۔ ٹی ایل پی نےپنجاب پولیس کےایک اعلی عہدیدارکی ویڈیوبھی شیئرکی جسےمبینہ طورپرکارکنوں نےپکڑلیا تھا۔ زخمی پولیس اہلکارنےبتایا کہ علاقےکوکارکنوں سےصاف کرنےکےلیےایک آپریشن کیا جارہا تھا جب انہیں ‘مشتعل’ ہجوم نے’پکڑ لیا’۔ سی سی پی اولاہورکےترجمان رانا عارف نےبتایا کہ ٹی ایل پی کےکارکنوں نےایک ڈی ایس پی عمرفاروق بلوچ کو’بےدردی سےتشدد کیا’ اوراس کےساتھ 4 دیگرعہدیداروں کویرغمال بنا لیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مزدوروں نے پولیس پر پٹرول بموں سے بھی حملہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 11 پولیس اہلکار ٹی ایل پی کارکنوں کے ‘وحشیانہ تشدد’ سے زخمی ہوئے ہیں اور وہ شہر کے مختلف ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 3 افراد ہلاک اور متعدد افراد گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس افسر نے بات چیت کے ذریعے معاملات کو آگے لے کر چلنے کی اپیل کی۔ علاوہ ازیں سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ 2014 میں سانحہ ماڈل ٹاؤن لاہور کی ویڈیو نہیں ہے بلکہ یہ 2021 میں ماہ رمضان کے دوران آج چوک یتیم خانہ لاہور کی ویڈیو ہے.

انہوں نےمزید کہا کہ جس کی خبرالیکٹرانک میڈیا سےغائب ہےکیونکہ میڈیا پرپابندی ہےلوگ ہمیں لاشوں کی ویڈیوزبھجوا رہےہیں ہم صرف اپیل کرسکتےہیں کہ رمضان میں خونریزی نہ کریں. وزارت داخلہ نے 15 اپریل کوتحریک لبیک پاکستان کوکالعدم قراردیا تھا بعدازاں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نےجماعت کی میڈیا کوریج پربھی پابندی عائد کردی تھی۔3 دن سےجاری ملک گیراحتجاج کے دوران سیکڑوں مظاہرین اورپولیس اہلکارزخمی ہوچکےہیں۔

اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نےکہا تھا کہ نےتحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کےخلاف ریاست کی عملداری کوچیلنج کرنےپرانسداد دہشت گردی قانون کےتحت کارروائی کی۔ سماجی رابطےکی ویب سائٹ پرٹوئٹ میں وزیراعظم نےکہا تھا کہ ‘میں اندرون اوربیرون ملک لوگوں کوواضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہماری حکومت نےتحریک لبیک پاکستان کےخلاف انسداد دہشت گردی قانون کےتحت اس وقت کارروائی کی جب انہوں نےریاست کی عملداری کوچیلنج کیا اورپرتشدد راستہ اختیارکرتےہوئےعوام اورقانون نافذ کرنےوالےاداروں پرحملےکیے’۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads. because we hate them too.