پاکستانفیچرڈ پوسٹ

عمران خان بھی جسٹس فائز عیسیٰ قاضی کے راستے پر چل نکلے‘ لیکن تحریک لبیک کے خلاف انہوں نے کونسی غلطی کر ڈالی؟ سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر بھی بول پڑے

فرانس میں ایک اسکول ٹیچر نے اپنی کلاس میں نبی کریمؓ کے گستاخانہ خاکے دکھائے جس کے ردِعمل میں ایک چیچن نوجوان نے اسے قتل کردیا تھا

عمران خان بھی جسٹس فائز عیسیٰ قاضی کے راستے پر چل نکلے‘ لیکن تحریک لبیک کے خلاف انہوں نے کونسی غلطی کر ڈالی؟ سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر بھی بول پڑے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی حامد میرکا کہنا تھا کہ نومبر 2018میں عمران خان کی حکومت بن چکی تھی۔ سپریم کورٹ نے توہین رسالتؓ کی ایک ملزمہ آسیہ بی بی کی رہائی کا حکم دیا تو تحریک لبیک نے احتجاج کا اعلان کردیا۔ ایک دفعہ پھر اس تنظیم سے مذاکرات ہوئے، معاہدہ ہوا اور پھر ٹوٹ گیا۔ تنظیم کے سربراہ خادم حسین رضوی کو گرفتار کیا گیا اور کچھ عرصہ بعد رہا کردیا گیا۔ اکتوبر 2020 میں ایک نیا تنازع کھڑا ہوا۔ فرانس میں ایک اسکول ٹیچر نے اپنی کلاس میں نبی کریمؓ کے گستاخانہ خاکے دکھائے جس کے ردِعمل میں ایک چیچن نوجوان نے اسے قتل کردیا جس پر فرانس کے صدر میکرون نے کہا کہ ہم خاکوں پر پابندی نہیں لگائیں گے۔ ان کے بیان پر کئی مسلم ممالک میں احتجاج ہوا اور تحریک لبیک نے فرانس کے سفیر کو پاکستان سے نکالنے کا مطالبہ کردیا۔ تحریک لبیک نے ایک دھرنے کا اعلان کیا جس کے بعد اس وقت وزیر داخلہ اعجاز شاہ اور وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے تحریک لبیک سے مذاکرات کئے اور ایک تحریری معاہدے میں وعدہ کیا کہ فرانس کے سفیر کو پاکستان سے نکال دیا جائے گا۔ یہ وہ وقت تھا جب ریاست کو تحریک لبیک والوں کو بتانا چاہئے تھا کہ فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنا بہت مشکل ہے لیکن دھرنا ختم کرانے کے لئے ایک جھوٹا معاہدہ کر لیا گیا۔ یہ نکتہ بہت اہم ہے۔ تحریک لبیک کا دھرنا صحیح تھا یا غلط لیکن عمران خان پاکستان کو ریاستِ مدینہ بنانے کے دعویدار ہیں۔ ان کی حکومت نے ایک تحریری معاہدہ کیا جس کے کچھ دنوں بعد خادم رضوی کا انتقال ہو گیا۔ حکومت نے وعدہ پورا نہیں کیا۔ خادم رضوی کے چالیسیویں کے بعد تحریک لبیک نے حکومت کو معاہدہ یاد دلایا لیکن حکومت اپنا وعدہ پورا کرنے پر تیار نہ ہوئی جس کے بعد تحریک لبیک کے نئے سربراہ سعد رضوی نے 20 اپریل کو دھرنا دینے کا اعلان کردیا اور پھر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار کرنے والوں نے متوقع ردِعمل کا اندازہ نہیں لگایا تھا۔ اب تحریک لبیک پر پابندی لگا کر کہا جا رہا ہے کہ سب ٹھیک ہو چکا۔ جناب کچھ بھی ٹھیک نہیں۔ تحریک لبیک کے کئی ناقدین اس تنظیم پر پابندی کو نامناسب قرار دے رہے ہیں کیونکہ ماضی کے تجربات سے پتا چلتا ہے کہ پابندیاں کسی مسئلے کا حل نہیں بنتیں۔ اگر پابندی لگانی تھی تو فروری 2019میں فیض آباد دھرنا کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد لگائی جا سکتی تھی۔ اس کیس کے فیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسی نے لکھا تھا کہ تحریک لبیک کے خلاف الیکشن کمیشن کے ذریعے کارروائی کی جا سکتی ہے لیکن عمران خان کی حکومت کو یہ فیصلہ پسند نہ آیا۔ تحریک لبیک کی بجائے قاضی فائز عیسی کے خلاف کارروائی شروع کردی گئی جو ابھی تک تو بینتیجہ ہے۔ اب حکومت نے خود تحریک لبیک پر پابندی لگا کر دراصل قاضی فائز عیسی کے فیصلے کی توثیق کردی ہے۔ وقت اور حالات نے ریاست کو غلط اور قاضی فائز عیسی کو صحیح ثابت کیا۔ وہ وقت دور نہیں جب ریاست کے قانون کو گڈے گڈی کا کھیل بنانے والے خود عبرت کی مثال بنیں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads. because we hate them too.