پاکستانفیچرڈ پوسٹ

کیا ہم سرکس دیکھنے بیٹھے ہیں؟ ایک دن کرپٹ کہہ کر نکال دیا جاتا ہے‘ پھر اسے کاروبار کے عہدہ سے نواز دیا جاتا ہے‘ سینئر صحافی جاوید چوہدری حکومت پر پھٹ پڑے

عمران خان شاہ جہاں نہیں ہیں اور یہ حکومت بھی مغلیہ نہیں لیکن اس کے باوجود آپ کو 2014کے دھرنے یاد ہوں گے

کیا ہم سرکس دیکھنے بیٹھے ہیں؟ ایک دن کرپٹ کہہ کر نکال دیا جاتا ہے‘ پھر اسے کاروبار کے عہدہ سے نواز دیا جاتا ہے‘ سینئر صحافی جاوید چوہدری حکومت پر پھٹ پڑے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی جاوید چوہدری نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ عمران خان شاہ جہاں نہیں ہیں اور یہ حکومت بھی مغلیہ نہیں لیکن اس کے باوجود آپ کو 2014کے دھرنے یاد ہوں گے آپ کو اگر وہ یاد ہیں تو پھر آپ کو یہ بھی یاد ہو گا عمران خان شیخ رشیدعارف علوی اور ہم نوا اس وقت کیا کہاکرتے تھے؟ آپ کو یہ بھی یاد ہو گا تحریک لبیک پاکستان نے نومبر 2017 میں فیض آباد میں دھرنا دیاتو شیخ رشید نے تحریک لبیک اور دھرنے کی کس طرح حمایت کی تھی عمران خان کے اس وقت کیا خیالات تھے؟ آج کے وزیراعظم اس وقت فرمایا کرتے تھے احتجاج ان کا جمہوری حق ہے اور یہ سچے عاشق رسولؓ ہیں۔ آپ کو یہ بھی یاد ہو گا میاں نواز شریف کا ووٹ بینک توڑنے کے لیے تحریک لبیک پاکستان کو 2018 کے الیکشنز میں کھڑا کیا گیا تھا اور پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں نے اس الیکشن تکنیک پر ایک دوسرے کو مبارک بادیں دی تھیں اور آپ کو یہ بھی یاد ہو گا6مئی 2018کو نارووال میں احسن اقبال پر حملہ ہوا یہ زخمی ہوئے اور اس وقت ان کے بارے میں کیا کہا گیا لیکن آج صرف اڑھائی سال بعد وہ ساری آوازیں لوٹ کر آرہی ہیں اور آج کے شاہ جہاں اپنے ہی توڑے ہوئے پیالے منہ سے لگانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

آج وہی پولیس ہے جسے یہ ریڈزون میں دھمکیاں دیا کرتے تھے جس کے ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو کوکانسٹی ٹیوشن ایونیو پر ڈنڈے مار مار کر زخمی کر دیا گیا تھا اور جس پولیس کو عمران خان نے کنٹینر پر کھڑے ہو کر کہا تھا میں تمہیں اپنے ہاتھ سے پھانسی دوں گا آج حکومت اس پولیس کو ریاست قرار دے رہی ہے اور وہ لوگ جن کے احتجاج کو 2017اور 2018 میں جمہوری حق کہا گیا تھا وہ آج عمران خان کی حکومت میں بین بھی ہو چکے ہیں اور ان پر کریک ڈان بھی جاری ہے اور یہ بازگشت صرف یہیں تک محدود نہیں آپ کو یاد ہو گایہ لوگ اسحاق ڈار کو کیا کہتے تھے۔ حفیظ شیخ اور شوکت ترین کے بارے میں ان کے کیا خیالات تھے اور جب خواجہ آصف پر سیالکوٹ میں سیاہی پھینکی گئی تھی یا میاں نواز شریف کوجامعہ نعیمیہ میں جوتا مارا گیا تھا یا لوگوں نے ایئرپورٹ پر پرویز رشید کو گھیر لیا تھا تو یہ لوگ کیا کہتے تھے اور یہ ڈالر کی قیمت میں ایک روپیہ اضافے پر بھی کیا کہتے تھے اور جب بجلی گیس اور پٹرول کی قیمتیں بڑھتی تھیں یا پی آئی ایا سٹیل مل اور ریلوے کو پرائیویٹائز کرنے کی کوشش ہوتی تھی یا وزیراعظم برطانیہ امریکا سعودی عرب چین اور بھارت کے دورے کرتے تھے تو ان کے کیا خیالات ہوتے تھے؟ یہ گورنر ہاسز پرائم منسٹر ہاس اور جنوبی پنجاب کے بارے میں کیا کہتے تھے اور یہ کس کو مہنگائی میں اضافے کا ذمے دار ٹھہراتے تھے۔

یہ لوگ کس طرح روزانہ آٹھ ارب روپے کی کرپشن کا رونا روتے تھے یہ اقربا پروری اور دوستوں کو وزارتیں دینے کی کس طرح دہائیاں دیتے تھے اور یہ ملک سے آٹھ ہزار ارب روپے ٹیکس جمع کرنے قرضے منہ پر مارنے اور بیرون ملک اکانٹس میں پڑی رقمیں واپس لانے کے دعوے بھی کس کس طرح کرتے تھے اور یہ شیخ رشید کو چپڑاسی نہ رکھنے چوہدری صاحبان کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو اور ایم کیو ایم کے ارکان کو بھی کس طرح زندہ لاشیں کہتے تھے۔ یہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے جان چھڑانے مہنگائی کنٹرول کرنے ایک کروڑ ملازمتیں دینے پچاس لاکھ گھر بنانے پولیس ریفارمز سول بیوروکریسی کی خودمختاری اور میرٹ پر تقرریوں کے لیے بھی کس طرح مرے جاتے تھے لیکن پھر کیا ہوا؟ شاہ جہاں ٹوٹے ہوئے پیالے کو منہ لگانے پر مجبور ہو گیا وہ آصف علی زرداری جس کے دور میں ملکی قرضے ساڑھے چھ ہزارارب روپے سے ساڑھے تیرہ ہزار ارب روپے تک پہنچ گئے عمران خان اس کے دونوں وزرا خزانہ حفیظ شیخ اور شوکت ترین کو وزیر خزانہ بنانے پر مجبور ہوگیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads. because we hate them too.