پاکستانفیچرڈ پوسٹ

سرکاری اسپتالوں میں کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کیسے کیا جا رہا ہے؟ علاج کے لئے مطلوبہ سہولیات دستیاب ہیں یا نہیں؟ بھانک سچ کھل کر منظر عام پر آگیا

اسپتال میں کورونا کے مریضوں کے لئے 485 بیڈز مختص تاہم اب مریضوں میں تیزی سے اضافے کے باعث یہ بیڈز بھی کم پڑنے لگے ہیں

سرکاری اسپتالوں میں کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کیسے کیا جا رہا ہے؟ علاج کے لئے مطلوبہ سہولیات دستیاب ہیں یا نہیں؟ بھانک سچ کھل کر منظر عام پر آگیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پشاور کے بڑے سرکاری اسپتال لیڈی ریڈنگ اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں کورونا کے مریضوں میں رفتہ رفتہ اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ سے یہ اسپتال طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے شدید دبا کا شکار ہیں۔ لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور میں کورونا کے مریضوں کی تعداد بلند ترین سطح پر 422 تک پہنچ گئی ہے جبکہ پشاور کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں کورونا کے مریضوں میں رفتہ رفتہ اضافہ ہورہا ہے۔ اسپتال میں کورونا کے مریضوں کے لئے 485 بیڈز مختص کئے گئے ہیں تاہم اب مریضوں میں تیزی سے اضافے کے باعث یہ بیڈز بھی کم پڑنے لگے ہیں، اس وقت اسپتال کے آئی سی یو میں 32 مریض داخل ہیں۔ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں بھی کورونا کے مریضوں میں اضافہ ہونے کے بعد اب کورونا کے مریضوں کی تعداد 154 ہوگئی ہے جبکہ کورونا کے لئے اسپتال میں 178 بیڈز مختص کئے گئے ہیں۔ اسپتال کے 38 وینٹیلٹرز میں سے 28 پر کورونا کے مریض زیرعلاج ہیں۔ خیبر ٹیچنگ اسپتال میں کورونا مریضوں کے لیے مختص 106 بیڈز میں سے 102 پر مریض داخل ہیں، اس طرح اسپتال میں صرف 4 بیڈز خالی رہ گئے ہیں۔ اسپتال میں 25 مریض بائی پائپ اور ایک وینٹیلٹر پر ہے۔

واضح رہے کہ پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے 5 اضلاع مردان، سوات، نوشہرہ، کوہاٹ اور صوابی میں کورونا کے متاثرہ کیسز میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ صوبے میں کورونا سے اموات کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے بھر میں مجموعی طور پر کورونا کے مریضوں کے لئے 3 ہزار 565 بیڈز اور 332 وینٹی لیٹرز مختص کئے ہیں جن میں سے مجموعی طور پر 1800 سے زائد بیڈز زیر استعمال ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads. because we hate them too.