پاکستان

"لگتا ہے پنجابی میں سمجھانا پڑے گا”۔۔۔فیصلہ محفوظ

 سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا ہے کہ جسٹس عمر عطا بندیال اپنے حلف کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 10 رکنی بینچ نے جسٹس قاضی فائز عیسٰی نظر ثانی کیس کی سماعت کی۔ وفاقی حکومت کے وکیل ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کیس ایف بی آر کو نہ بھجواتی تو وفاقی حکومت نظر ثانی اپیل دائر کرتی، حکومت کیس ایف بی آر کو بھجوانے کا دفاع کرنے میں حق بجانب ہے، جسٹس قاضی فائز عیسٰی کیس میں عدالتی فیصلے پر عملدرآمد ہو چکا ہے، عملدرآمد کے بعد فیصلہ واپس نہیں لیا جا سکتا، سپریم جوڈیشل کونسل کومواد کا جائزہ لینے سے نہیں روکا جا سکتا اور آرٹیکل 211 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کی کاروائی چیلنج نہیں ہو سکتی، سپریم کورٹ صرف غیر معمولی حالات میں جوڈیشل کونسل میں مداخلت کر سکتی ہے، عدالت نے مجھ سے تین سوالات کے جواب مانگے تھے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اعتراض اٹھایا کہ عامر رحمان میرے ٹیکس یا فنانشل ایڈوائزر نہیں ہیں، حکومتی وکیل سے ایسا سوال نہیں پوچھنا چاہیے تھا، جان بوجھ کر نیا مواد عدالتی کاروائی کا حصہ بنایا جا رہا ہے، کیا جسٹس عمر عطا بندیال آپ شکایت کنندہ ہیں؟ ایسے سوالات سے آپ کوڈ آف کنڈکٹ اور اپنے حلف کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، جسٹس عمر عطابندیال حکومتی وکیل کے منہ میں الفاظ ڈال رہے ہیں، شاید پھر سے کوشش ہو رہی ہے کہ وقت ضائع کیا جائے، ایف بی آر کی رپورٹ نظر ثانی درخواستوں کے بعد آئی ہے۔

دوران دلائل جسٹس قاضی فائز عیسی نے ایک بار پھر مداخلت کی تو جسٹس منظور ملک نے ان سے کہا کہ  قاضی صاحب آپ کو اردو اور انگلش میں کئی بار سمجھا چکا ہوں، اب لگتا ہے پنجابی میں سمجھانا پڑیگا، قاضی صاحب مہربانی کریں اور بیٹھ جائیں۔

عامر رحمان نے دلائل دیے کہ عدلیہ کی آزادی ججز کے احتساب سے منسلک ہے، ایک جج کے اہلخانہ کی اُف شور جائیدادوں کا کیس سامنے آیا، ریفرنس کالعدم ہو گیا لیکن تنازع اب بھی برقرار ہے، عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ تنازع ختم ہو،سپریم جوڈیشل کونسل اس تنازع کے حل کے لیے متعلقہ فورم ہے۔دوران سماعت جسٹس فائز عیسٰی نے پھر مداخلت کی جس پر جسٹس منظور ملک نے ٹوکا کہ قاضی صاحب آپ کے بولنے سے عامر رحمان ڈر جاتے ہیں، کیا حکومتی وکیل آپ سے لکھوایا کریں کہ کیا دلائل دینے ہیں کیا نہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ مجھے پنجابی میں روکا نہیں گیا اس بات کا گلہ ہے، پنجابی میں کہوں گا تو ونج تے میں آیا۔ جسٹس منظور ملک نے کہا کہ آپ نے پنجابی نہیں سرائیکی بولی ہے۔

جسٹس فائز عیسی نے کہا کہ میرا میڈیا ٹرائل کل سے دوبارہ شروع ہو گیا ہے، ہمارے بیوی اور بچے حاضر ہیں، ریٹائرڈ جرنیل کو چھیڑیں گے تو شمالی علاقہ جات کی سیر کرائی جائے گی۔جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ سپریم کورٹ فارن اکاؤنٹس کیس میں اہم آبزرویشن دے چکی ہے، سات ججز نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسٰی قابل احتساب ہیں، ہم میں سے کوئی اثاثوں کی وضاحت نہیں کرسکے گا تواس کا بھی احتساب ہوگا۔وفاق کے وکیل عامر رحمان اور جسٹس فائز عیسی نے جواب الجواب مکمل کرلیا اور سرینا عیسی نے بھی جواب الجواب تحریری طورپر جمع کروا دیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کی سماعت مکمل ہوگئی جس پر سپریم کورٹ نے کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads. because we hate them too.