پاکستانفیچرڈ پوسٹ

اب تم کبھی بھی بچہ پیدا کرنے کی کوشش نا کرنا کیونکہ تم موت کا شکار؟ بار بار حمل ضائع ہونے والی خواتین کے لئے رونگٹے کھڑے کر دینے والی حقیقت سامنے آگئی

ساتویں بار جب حمل ضائع ہوا تو میں نے ڈی این سی کے بجائے ایک دوا کھائی لیکن اس سے بلیڈنگ رات گئے تک نہ رکی: عالیہ

اب تم کبھی بھی بچہ پیدا کرنے کی کوشش نا کرنا کیونکہ تم موت کا شکار؟ بار بار حمل ضائع ہونے والی خواتین کے لئے رونگٹے کھڑے کر دینے والی حقیقت سامنے آگئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے علاقے سوات کے ایک چھوٹے سے گاؤں کوکارئی کی رہائشی عالیہ سعید جس وقت اپنے ساتویں حمل کے ضائع ہونے کا دکھ ہمیں بتا رہی تھیں تو اس وقت بھی ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور لرزتی آواز میں گہرا کرب نمایاں تھا۔ آس پاس لوگوں کا کہنا تھا کہ چھ بار حمل ضائع ہونے پر ڈی این سی (جراحی طریقہ)سے صفائی کرانے کی وجہ سے میری صحت خراب ہو رہی ہے۔ ساتویں بار جب حمل ضائع ہوا تو میں نے ڈی این سی کے بجائے ایک دوا کھائی لیکن اس سے صبح دس بجے شروع ہونے والی مسلسل بلیڈنگ رات گئے تک نہ رکی اور مجھ پر غشی کے دورے پڑنے لگے۔ وہ بتاتی ہیں کہ گھر والے مجھے ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے تو انھوں نے فورا مجھے ایمرجنسی بھیجا۔ میری بہن نے بعد میں کہا کہ عالیہ آئندہ کبھی بچہ پیدا کرنے کی کوشش نہ کرنا کیونکہ اس خواہش میں تم خود مرتے مرتے بچی ہو۔

42 برس کی عالیہ سعید ہماری درخواست پر اپنی ماں بننے کی دلی خواہش اور سات سال کے دوران سات بار حمل ضائع ہونے جیسے حساس مسئلے پر ہم سے اپنے شوہر کی موجودگی میں بات کر رہی تھیں۔ روایتی گھرانے سے تعلق ہونے کی وجہ سے انھوں نے کیمرے کے سامنے آنے سے معذرت کی تاہم عالیہ کے لہجے کی افسردگی اور اپنی کہانی سناتے ہوئے ان کی آواز کا بار بار بھر آنا، ان کے الفاظ سے زیادہ نمایاں تھا جس کے اظہار کے لیے شاید کسی کیمرے کی ضرورت نہیں۔ ان کی کہانی ان ہی کی زبانی سنیے۔

شادی کے چار ماہ بعد میں پہلی بار حاملہ ہوئی تو خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ پھردو ماہ بعد الٹرا ساونڈ کروانے گئی تو ڈاکٹر نے بتایا کہ بچے کے دل کی دھڑکن ابھی تک نہیں بن پائی اور پھر حمل کے چار ماہ تک بچے کے دل کی دھڑکن نہ ہونے کے باعث ڈاکٹر کو میری ڈی این سی کرنی پڑی۔ پہلا حمل ضائع ہونے کے آٹھ ماہ بعد میں دوبارہ حاملہ ہوئی تاہم اس بار بھی یہی مسئلہ رہا۔ پھر تیسرے، چوتھے اور یہاں تک کہ ساتویں حمل میں بھی صورتحال یہی رہی۔

مختلف ڈاکٹرز نے مختلف ٹیسٹ تجویز کیے۔ سارے ٹیسٹ کروانے کے بعد ڈاکٹرز کہتے کہ بظاہر سب ٹھیک ہے۔ ناصرف میرے بلکہ میرے شوہر کے بھی تمام ٹیسٹ درست آتے ہیں، پھر بھی کوئی ڈاکٹر اب تک ہمارے مسئلے کو سمجھ نہیں سکا۔ وقت کے ساتھ ساتھ میری صحت اب پہلے جیسی نہیں رہی۔ کمر اور ایک ٹانگ میں ہر وقت شدید درد رہتا ہے اور اس کی وجہ سے میں زیادہ دیرکھڑی نہیں رہ سکتی۔ میرے شوہر میری دلجوئی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتے تاہم میری اب بھی خواہش ہے کہ میرے آنگن میں ہمارے بچے کھیلیں کودیں۔ اپنے دل کو سنبھالنے کے لیے میں دعا بھی مانگتی ہوں۔ قرآن میں جب یہ پڑھتی ہوں کہ تمھاری اولاد تمھارے لیے آزمائش ہے تو پھر خود کو تسلی دیتی ہوں۔ ماں کی کوکھ میں بڑھنے والے بچے کا ضائع ہو جانا کسی بھی شادی شدہ جوڑے کے لیے بہت بڑا نقصان ہوتا ہے۔اس مسئلے سے دوچار خواتین کا اس حساس موضوع پر بولنا آسان نہیں۔ اس لیے اپنے اس دکھ کو ہم سے بیان کرتے ہوئے جہاں عالیہ بے اختیار رو پڑتی تھیں، وہیں کراچی کی رہائشی ارم عمر نے بہت ہمت اور حوصلے سے اپنی کہانی ہم سے شیئر کی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads. because we hate them too.