پاکستانفیچرڈ پوسٹ

جی سی یونیورسٹی کی طالبہ کی ہلاکت؟معاملہ نےڈرامائی موڑاختیارکرلیا

جی سی یونیورسٹی کی طالبہ کی ہلاکت؟معاملہ نےڈرامائی موڑاختیارکرلیا،ملزمان کو پکڑا گیا یا نہیں؟حقیقت کھل کرسامنےآنےپرطلباء حیران و پریشان رہ گئے

جی سی یونیورسٹی کی طالبہ کی ہلاکت؟معاملہ نےڈرامائی موڑاختیارکرلیا،ملزمان کو پکڑا گیا یا نہیں؟حقیقت کھل کرسامنےآنےپرطلباء حیران و پریشان رہ گئے،کھوج نیوز کے مطابق جی سی یونیورسٹی کی طالبہ مریم کی ہلاکت کیس میں نیا موڑ آگیا۔ میڈیا ذرائع کے مطابق فرانزک سائنس ایجنسی کی جانب سے ڈی این اے رپورٹ تیار کر لی گئی ہے جس میں مقتولہ کا ڈی این اے مرکزی ملزم اسامہ اور اویس سے میچ نہیں ہوا جب کہ ملزمان کی مقتولہ سے زیادتی بھی ثابت نہ ہوسکی ، اس کے علاوہ پولیس کو کال ریکارڈ سے اصل شواہد کے حصول میں بھی کوئی کامیابی نہیں ملی تاہم طالبہ مریم کے والدین نے ڈی این رپورٹ کو ماننے سے انکار کردیا۔

بتایا گیا ہے کہ ڈی این اے رپورٹ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو بھی ارسال کردی گئی ہے اس کے علاوہ یہ رپورٹ تھانہ نواب ٹاؤن پولیس کو بھی بھیجی گئی ہے جس کی روشنی میں پولیس نے اصل مجرم تک پہنچنے کے لیے ایک بار پھر سے کام شروع کردیا۔

خیال رہے کہ لاہور کے علاقے نواب ٹاؤن میں موجود ایک نجی ٹیچنگ ہسپتال میں جی سی یونیورسٹی کی طالبہ کی پراسرار طریقے سے موت ہوگئی تھی ، گجرات سے تعلق رکھنے والی 18 سال لڑکی کو ڈیفنس روڈ پر واقع ہسپتال میں ایک نوجوان نے پہنچایا جو بولیس کی مبینہ غلفت کی وجہ سے موقع سے فرار ہوگیا تھا اور ہسپتال میں پہنچنے کے کچھ لمحوں بعد ہی لڑکی دم توڑ گئی تاہم بعد میں پولیس نے ملزم کی شناکت اسامہ کے نام سے کی جس کو بعد ازاں گرفتار بھی کرلیا گیا۔

بتایا گیا کہ لڑکی کا اسقاطِ حمل شورکوٹ کے حیات میڈیکل کمپلیکس میں کروایا گیا جہاں ملزم اُسامہ نے لڑکی کو اپنی بیوی ظاہر کرکے اسقاطِ حمل کروایا ، اسقاط حمل کے بعد ڈاکٹروں نے لڑکی کو دو دن اسپتال میں ہی رکھنے اور آرام کرنے کا مشورہ دیا تھا لیکن ملزم اُسامہ زبردستی اُسے اُٹھا کر لے گیا ، کیس میں اسپتال کی نرس اور منیجر کو گرفتار کرلیا جبکہ ایک ڈاکٹرعبوری ضمانت پر ہےجب کہ پوسٹمارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ لڑکی کی موت زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے ہوئی۔

پولیس کی زیر حراست ملزم اُسامہ نے کہا کہ میں اُس لڑکی کو پانچ چھ سال سے جانتا ہوں، جب یہ معاملہ ہوا تو اُس نے مجھے بتایا کہ اس طرح حمل کا مسئلہ ہے ، اس سلسلے میں شور کوٹ جا کر جب چیک اپ کروایا تو ڈاکٹر نے بتایا کہ آپ کے حمل کو چار ماہ سے زائد ہو چکے ہیں ، آپ کا اتنا خون نکل چکا ہے کہ آپ کا ابھی ڈی این سی کرنا پڑے گا نہیں تو نقصان ہو گا ، ہم لڑکی کو لاہور سے شور کوٹ اور پھر شور کوٹ سے واپس لاہور لائے ، ڈی این سی کا معاملہ ختم کر وا کر ہم دس سے گیاہ بجے لاہور پہنچے ، شور کوٹ سے واپسی پر طبیعت بالکل ٹھیک تھی، جیسے ہی اُس کی طبیعت تھوڑی خراب ہوئی تو میں نے فوری طور پر انسانیت کے ناطے اُس کی جان بچانے کی خاطر اُس کو اُٹھایا اور اسپتال لے گیا، تاکہ اُس کی جان بچ جائے ، اسپتال جا کر میں نے سلپ بھی بنوائی۔

ملزم نے کہا کہ مجھے اسپتال کے عملے نے اس بات پر مجبور کیا کہ میں اُس کے گھر والوں کو بلواؤں ، لڑکی نے مجھے بتایا تھا کہ اُس کی والدہ کو اس سارے معاملے کا تھوڑا بہت علم تھا ، اُسی نے مجھے قائل کیا تھا اور کہا تھا کہ چونکہ میری والدہ کو سب کچھ پتہ ہے اسی لیے ہم یہ کروا لیتے ہیں ، اُس وقت مجھے جو صحیح لگا ہم نے وہی کیا، اُس نے مجھے کہا تھا کہ میں یہ کروانا چاہتی ہوں تاکہ میں آگے اپنی زندگی شروع کر سکوں۔

ملزم اُسامہ کا کہنا تھا کہ اگر میرے ساتھ اُس کا تعلق ہوتا تو وہ مجھ سے شادی کا مطالبہ کرتی ، ہمارا ایسا کوئی تعلق نہیں تھا، اس بات کو زیادہ بڑھایا جا رہا ہے ، میں نے یہ جو سب کچھ کیا ، بہتری کے لیے کیا تھا مجھے نتائج کا علم نہیں تھا ، میں نیکی کرنا چاہ رہا تھا ، مجھے اس چیز کا افسوس ہے کہ مجھے خود سب کرنے کی بجائے اُس کی والدہ کو بتانا چاہئیے تھا تاکہ وہ اُس کا علاج کرواتیں ، میری ہی غلطی ہے کہ مجھے نہ تو حامی بھرنی چاہئیے تھی نہ ہی اُس کی مدد کرنی چاہئیے تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.