پاکستان

حکومت اور سیاستدانوں کے بعد حاضر سروس ججوں کی باری بھی لگ گئی، اٹارنی جنرل نے عدلیہ کو بھی خبردار کر دیا، ملک بھر میں نیا محاذ کھل گیا، ججز چونک کر رہ گئے

اے جی پی نے تسلیم کیا کہ 'یہ اختیار عدالت عظمی نے بہت احتیاط کے ساتھ اور انتہائی ضرورت کے تحت استعمال کیا ہے

حکومت اور سیاستدانوں کے بعد حاضر سروس ججوں کی باری بھی لگ گئی، اٹارنی جنرل نے عدلیہ کو بھی خبردار کر دیا، ملک بھر میں نیا محاذ کھل گیا، ججز چونک کر رہ گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت بنیادی حقوق کے نفاذ کے لیے سپریم کورٹ کو حاصل اختیارات کے استعمال کے لیے ایک مقصدی میکانزم تیار کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ رپورٹ کے مطابق اے جی پی نے تسلیم کیا کہ ‘یہ اختیار عدالت عظمی نے بہت احتیاط کے ساتھ اور انتہائی ضرورت کے تحت استعمال کیا ہے’ تاہم انہوں نے تجویز پیش کی کہ اب وقت آگیا ہے کہ عدالت عظمی چند رہنما اصول اور طریقہ کار پر غور و فکر کرے۔ اے جی پی نے مشاہدہ کیا کہ اس طرح کے رہنما اصول سے اس کے ضرورت سے زیادہ استعمال کو روکنے میں مدد ملے گی جس کا نتیجہ ہمارے دائرہ اختیار کے ساتھ ساتھ عدلیہ کے لیے بھی فائدہ مند نہیں ہوگا۔ خالد جاوید خان عدالت کے کمرہ نمبر ایک میں ریٹائر ہونے والے سپریم کورٹ کے جج جسٹس منظور احمد ملک کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ چیف جسٹس گلزار احمد اور جسٹس منظور ملک کے علاوہ پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین خوشدل خان نے بھی اس ریفرنس سے خطاب کیا۔ ماضی میں بھی عوامی مفادات کی قانونی چارہ جوئی سے نمٹنے کے لیے عدلیہ کے قواعد و ضوابط وضع کرنے کی ضرورت کا اظہار کیا جاچکا ہے جہاں بار کونسلز اور ایسوسی ایشنز کی ایک بڑی تعداد نے کیس مینجمنٹ کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

یہاں تک کہ پاکستان بار کونسل (پی بی سی)نے 2017 میں ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں ایک ایسے قانون کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا تھا جس کے تحت آرٹیکل 184 (3) کے تحت اعلی عدالتوں کی جانب سے منظور شدہ فیصلوں کو چیلنج کرنے کی گنجائش ہو۔ پی بی سی کی قانونی اصلاحات کمیٹی نے ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں وزارت قانون کو قانون میں ترمیم پر غور کرنے کا کہا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads. because we hate them too.