پاکستان

کیا 1 تولےسونا پربھی زکوٰۃ واجب ہوگی؟

اورتمہارے اوپرسونےمیں اس وقت کچھ بھی واجب نہ ہوگا جب تک کہ وہ 20 دینارنہ ہوجائیں

آج جتنی قیمت میں ایک تولہ سونا آتا ہے، اتنی ہی قیمت میں حضورنبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے زمانۂ اطہرمیں کئی تولے سونا مل جایا کرتا تھا، تو کیا اس وقت اوراس زمانے کے لحاظ سے ایک تولہ سونا رکھنے والے پربھی زکوٰۃ ہوگی؟ شریعت مطہرہ نے زکوٰۃ کے وجوب کے لیے سونا، چاندی کو معیار قرار دیا ہے، نہ کہ اس کی قیمت کو، چنانچہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کی روایت ہے، ہر 40 درہم میں ڈھائی فیصد زکوٰۃ نکالو اور جب تک دو سو درہم نہ ہوجائیں، اس وقت تک تم پر کچھ بھی واجب نہیں، پھر جب دو سو درہم ہوجائیں تو اس میں 5 درہم واجب ہوں گے، اس میں جس قدر اضافہ ہوگا، اس لحاظ سے رقم بڑھتی جائے گی۔ (ابو داؤد)

اور تمہارے اوپر سونے میں اس وقت کچھ بھی واجب نہ ہوگا جب تک کہ وہ 20 دینار نہ ہوجائیں، جب 20 دینار ہوجائیں اوران پرسال بھی پورا گزر چکا ہو تو اس میں آدھا دینار واجب ہوگا، پھر جو بھی اضافہ ہوگا، اسی حساب کے مطابق اس میں بھی اضافہ ہوگا۔ (ابو داؤد) ان دونوں احادیث میں سونے، چاندی کو زکوٰۃ کے وجوب کا معیار بنایا گیا ہے، نہ کہ ان کی قیمت کو، اس لئےکہ قیمت توگھٹتی بڑھتی رہتی ہے، اس کا کوئی اعتبار نہیں، سونے میں زکوٰۃ کا نصاب ساڑھے 7 تولے (87.480 گرام) ہے لہٰذا ہرزمانےمیں ساڑھے 7 تولےسونے ہی پر زکوٰۃ فرض ہوگی، اس سےکم پرنہیں۔  چاندی کا نصاب شریعت نے ساڑھے 52 تولےمقررکیا ہے لہٰذا ہر زمانے میں زکوٰۃ کے وجوب کیلئے یہی معیار برقرار رہےگا اورقیمت میں اسی زمانےکی قیمت کا اعتبارکیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.