پاکستان

پاکستانی آم کی برآمدات کو شدید ترین خدشات لاحق

آبادگارکہتےہیں کہ آموں کی بذریعہ ہوائی جہازبرآمد کےلیےگزشتہ سال کرایوں میں اضافہ کیا گیا

پاکستانی آم کی برآمدات کو شدید ترین خدشات لاحق،پاکستان میں پھلوں کے بادشاہ سندھڑی سمیت مختلف اقسام کےآموں کوبرآمد کرنےکی تیاریاں مکمل ہیں تاہم بیرون ممالک میں کورونا وائرس کی پابندیوں کےباعث برآمد کندگان غیریقینی کا شکارہیں۔ پاکستان میں پھلوں کےبادشاہ سندھڑی سمیت مختلف آموں کی اقسام اترنا شروع ہوگئی ہیں ،رواں سال 17 لاکھ میٹرک ٹن سےزائد آم کی پیداوارکا امکان ہے جب کہ حکومت نےاس سال ڈیڑھ لاکھ میٹرک ٹن آموں کی برآمد کا ہدف مقررکیا ہےجس میں 3 لاکھ 80 ہزارمیٹرک ٹن سے زائد سندھ کا آم بھی شامل ہےلیکن برآمد کنندگان غیریقینی صورت حال کا شکارہیں۔

سندھ آبادگاربورڈ کےنائب صدرمحمود نوازشاہ کا کہنا ہے کہ سندھ کے اندرآم کی پیداوارتین لاکھ 80 ہزارمیٹرک ٹن ہےاور  90 ہزار ایکڑ پر آم کی کاشت ہے، لیکن اس وقت غیریقینی صورت حال ہےکیوں کہ بیرون ممالک جہاں ہمارا آم جاتا ہے وہاں طلب کم ہے، فی الحال ڈیڑھ لاکھ ٹن ایکسپورٹ کا ٹارگٹ رکھا ہے۔

آبادگارکہتےہیں کہ آموں کی بذریعہ ہوائی جہازبرآمد کےلیےگزشتہ سال کرایوں میں اضافہ کیا گیا،برطانیہ اوریورپ کےلیےایک کلوکا کرایہ 180 روپےسے 600 کر دیا گیا۔ آبادگاروں کا کہنا ہے کہ حکومت اگربرآمدات میں حائل مسائل کوختم کرکےسہولیات فراہم کرے توصرف آم کی برآمدات 120 ملین ڈالرزسے بڑھا کرکئی گنا زائد زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے ۔ دوسری جانب سوات میں آڑوں کےکاشتکا روں کوبھی لاک ڈاؤن اورٹرانسپورٹ کےمسائل کا سامنا ہےاورانہیں بھی فصل کےحوالےسےخدشات لاحق ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.