پاکستان

دولت مند افراد اپنے بچوں کی شادیاں دھوم دھام سے کیوں کرتے ہیں جبکہ غریب لوگ اپنے بچوں کی شادیوں کے لئے پیسے کہاں سے لیتے ہیں؟ صحافی انصار عباسی نے کڑوی سچائی بتا دی

سفید پوش طبقے کی بھی یہی مجبوری ہے‘ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے بھی بیٹی کی شادی کے لئے ادھار تک لینے کے لئے مجبور ہو جاتے ہیں

دولت مند افراد اپنے بچوں کی شادیاں دھوم دھام سے کیوں کرتے ہیں جبکہ غریب لوگ اپنے بچوں کی شادیوں کے لئے پیسے کہاں سے لیتے ہیں؟ صحافی انصار عباسی نے کڑوی سچائی بتا دی۔

تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی انصاف عباسی کا کہنا تھا کہ میری بیٹی کی شادی ہے، مدد کر دیں، یہ وہ جملہ ہے جو آپ میں سے اکثر ساتھی آئے دن سنتے ہیں۔ حالات ہی ایسے بنا دیے گئے ہیں کہ غریب تو بیچارہ مجبور ہوتا ہے کیوں کہ اگر پیسہ نہیں ہوگا تو بیٹی کی شادی نہیں ہوگی۔ سفید پوش طبقے کی بھی یہی مجبوری ہے۔ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے بھی بیٹی کی شادی کے لئے ادھار تک لینے کے لئے مجبور ہو جاتے ہیں۔ امرا رؤسا کے لئے تو شادی کا یہ موقع شو آف کرنے کے لئے بہترین ہوتا ہے۔ پہلے تو شادیاں مہندی، برات اور ولیمہ تک محدود ہوتی تھیں اب نجانے کیا کچھ اور شادی تقریبات میں شامل ہو چکا اور کئی کئی دن تک شادی کی تقریبات جاری رہتی ہے اور حالات کچھ ایسے ہو چکے کہ شادی کی تقریبات میں اضافہ بیٹی والوں کے لئے زیادہ ہوا۔ اب تو شادیاں ہر لیول پر اس لئے بھی اہمیت اختیار کر چکیں کہ ان کے ذریعے بہت سے لوگ دوسروں کو یہ ثابت کرنے بلکہ متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ میری کتنی جان پہچان ہے۔ کس شادی میں کتنے وزیر آئے، کتنے مشیر آئے، کون کون سے سیاسی رہنما، جرنیل اور دوسرے لوگ جن کو دنیا جانتی ہو۔ اب تو ٹی وی اینکرز اور ایسے صحافی جن کو ٹی وی کے ذریعے لوگ جانتے ہیں، وہ بھی اس لسٹ میں شامل ہو چکے جو شادی کے فنکشن کو کامیاب بنانے یعنی شادی میں شریک مہمانوں، رشتہ داروں کو یہ تاثر دینے کے لئے کہ دیکھا میرے کتنے تعلقات ہیں ان مہمانوں کو مدعو کرنا ضروری خیال کرتے ہیں۔ یعنی شادیاں دکھاوا بن چکیں، ان کو شو آف کا ذریعہ بنا دیا گیا۔ میں کسی ایک نہیں کئی اشخاص کو جانتا ہوں جو ادھار لے کر شادیاں کرتے ہیں۔ ایسے بھی ہیں جو وی آئی پی مہمانوں کو اپنی شادیوں میں بلانے کے لئے سفارشیں تک کرواتے ہیں۔ منتیں ترلے بھی کیے جاتے ہیں۔ یعنی سب دکھاوا اور اس دکھاوے میں ظاہری طور پر بڑے بڑے لوگ سب سے آگے ہیں۔ گویا ہم نے ایک کلچر بنا دیا، ہم ایک ایسے راستے پر چل پڑے ہیں کہ جس پر چل کر ہم نے شادی بیاہ کو اور مشکل بنا دیا ہے اور اس کا سب سے بڑا نقصان غریب، سفید پوش اور درمیانے طبقے کو پہنچ رہا ہے۔ سب دکھاوا کرنے کے لئے مجبور ہیں اور یہی وجہ ہے کہ میری بیٹی کی شادی ہے، مدد کریں یا ادھار دے دیں والی بات آپ کو اکثر سننے کو ملتی ہے۔

اگرچہ مجھے ایسے لوگ بھی ملے جنہوں نے کہا کہ بیٹے کی شادی کرنی ہے، مدد کر دیں لیکن بیٹی والوں کی بہت بڑی تعداد ایک ایسے رواج کے آگے بیبس ہو چکی جس کا تعلق ہندو کلچر سے ہے اور جس نے دکھاوے کی دوڑ کی وجہ سے شادی کو ہی مشکل بنا دیا۔ جہیز اس مشکل میں مزید اضافہ کرتا ہے اور اچھے خاصے پیسے والے لوگ یہ توقع رکھتے ہیں کہ ان کی بہو اپنے ساتھ جہیز لائے گی۔ جہیز کی لسٹ بھی کئی شادیوں میں پڑھی جاتی ہے، اس لسٹ میں شادی میں شامل افراد کو باقاعدہ پڑھ کر یہ بتایا جاتا ہے کہ بیٹی والوں نے بیٹی کو جہیز میں کیا کیا دیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.