پاکستانفیچرڈ پوسٹ

خواتین کو اپنے ملبوت کے انتخاب میں مردوں کا سہارا کیوں لینا پڑتا ہے؟ اور زیادہ تر خواتین کو کس چیز پر شرمندگی اٹھانا پڑتی ہے؟ المناک معاشرتی المیہ منظر عام پر

انڈر گارمنٹس کی ایک دکان پر کپڑے اور ڈیزائن پر تحقیق کرنے کی غرض سے پہنچے، تو دکان کے کالے شیشے دیکھ کر سمجھے کہ وہ غلط جگہ آ گئے ہیں

خواتین کو اپنے ملبوت کے انتخاب میں مردوں کا سہارا کیوں لینا پڑتا ہے؟ اور زیادہ تر خواتین کو کس چیز پر شرمندگی اٹھانا پڑتی ہے؟ المناک معاشرتی المیہ منظر عام پر آگیا۔

تفصیلات کے مطابق پندرہ ماہ پہلے جب مارک مور پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ایک شاپنگ سینٹر میں زیرِ جامہ پہنے جانے والی ملبوسات یعنی انڈر گارمنٹس کی ایک دکان پر کپڑے اور ڈیزائن پر تحقیق کرنے کی غرض سے پہنچے، تو دکان کے کالے شیشے دیکھ کر سمجھے کہ وہ غلط جگہ آ گئے ہیں لیکن جب انھیں احساس ہوا کہ دکان کا نام صحیح ہے تو انھوں نے اندر جانے کی کوشش کی لیکن اسی وقت دکان کے باہر موجود دو سکیورٹی گارڈز نے انھیں اندر جانے سے روک دیا۔ ان سے پوچھا گیا کہ وہ یہاں کیا کر رہے ہیں اور خواتین کے زیرِ جامہ ملبوسات کی دکان میں کیوں جانا چاہتے ہیں؟

آج کل جہاں ہر چیز کی خبر یا نمائش سوشل میڈیا پر کی جا سکتی ہے، وہیں انڈر گارمنٹس واحد ملبوسات ہیں جن کو سوشل میڈیا پر بہت ہی کم مارکیٹ کیا جاتا ہے۔ مارک نے بتایا کہ اب تک انھوں نے سوشل میڈیا کا سہارا اس لیے نہیں لیا کیونکہ ان کو ایسا کرنے سے تاحال منع کیا گیا ہے اور وہ اپنے کارخانے کے ملبوسات کسی برانڈ کے ساتھ مارکیٹ میں متعارف کرانے کو زیادہ ترجیح دینا چاہتے ہیں تاکہ لوگ اسے باآسانی خرید سکیں۔ آج سے قریب چار دہائی قبل 1980 میں کراچی کے علاقے کریم آباد میں مینا بازار انڈر گارمنٹس فروخت کرنے کا گڑھ ہوا کرتا تھا۔ وہاں جانے والی خواتین ایک دوسرے کو بتا دیا کرتی تھیں کہ کس دکان کا سامان اچھا ہے یا نہیں اور اس طرح اس جگہ کی مارکیٹنگ ہو جایا کرتی تھی۔

اس سے پہلے کہ مزید گرما گرمی ہوتی، مارک کے ایک پاکستانی دوست نے سکیورٹی پر مامور گارڈ کو بتایا کہ مارک سفیر ہیں اور اپنی اہلیہ کے لیے انڈر گارمنٹس خریدنا چاہتے ہیں اور یوں ان کو وہاں سے جانے دیا گیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ مارک مور سفیر نہیں ہیں بلکہ برطانیہ کے علاقے لیسٹر سے تعلق رکھنے والے ایک ڈیزائنر ہیں جنھوں نے زیرِ جامہ ملبوسات بنانے کے لیے فیصل آباد میں کارخانہ لگایا ہے۔ اس سے پہلے مارک ترکی، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک میں انڈر گارمنٹس بنانے والی کمپنی مارک اینڈ سپینسر اور ڈیبنہیم کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ فیصل آباد میں لگائے گئے ان کے کارخانے کو کام کرتے 15 ماہ گزر چکے ہیں لیکن یہ ابھی بھی مکمل طور پر چل نہیں پایا ہے کیونکہ پاکستان میں جتنے بھی بڑے برانڈ ہیں وہ ان کے بنائے گئے زیرِ جامہ ملبوسات کو دیکھ کر اس بات پر تو آمادگی کا اظہار کرتے ہیں کہ اس کی مارکیٹ اور ضرورت بہت ہے، لیکن ان ملبوسات کو اپنی دکان پر نمایاں طور پر لگانے سے ان سب نے معذرت کر لی ہے۔

اس کے علاوہ رسالوں اور خواتین ڈائجسٹ کے ذریعے انڈر گارمنٹس کے اشتہارات کو تمام احتیاط برتتے ہوئے شائع کیا جاتا تھا لیکن آج تک پاکستان کے بازاروں میں ان ملبوسات کی کھلے عام نمائش نہیں کی جاتی۔ اس کی ایک مثال پاکستان کے مختلف شہروں میں موجود دکانوں سے لی جا سکتی ہے، جہاں دکان کے باہر سے اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ اندر کیا مل رہا ہے۔ اکثر اوقات شیشوں کو کالا یا مکمل طور پر بند کر دیا جاتا ہے تاکہ مخصوص لوگوں کو نام سے پتا چل جائے کہ یہ زیرِ جامہ ملبوسات کی دکان ہے۔ شاپنگ مال اور سینٹرز نے کچھ حد تک زیرِ جامہ ملبوسات کو لوگوں تک پہنچایا ہے لیکن یہاں یہ واضح کرنا بھی لازمی ہے کہ یہ مخصوص طبقے کے لیے ہے جو ان ملبوسات کی منھ مانگی قیمت بمع ٹیکس ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن اگر ان شاپنگ مالز سے باہر آئیں تو زیادہ تر خواتین امپورٹ شدہ سستے معیار کے انڈر گارمنٹس لے لیتی ہیں کیونکہ ان کی رسائی انھی دکانوں یا بازاروں تک محدود ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.