پاکستانفیچرڈ پوسٹ

آئندہ بجٹ پاکستان تحریک انصاف کا آخری بجٹ ثابت ہوگا، عمران خان اور وزیر خزانہ شوکت ترین کو درپیش چیلنجز کا خلاصہ سامنے آگیا

آئندہ بجٹ سے حکومت کو درپیش سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط پوری کی جائیں یا پھر عوام کو کوئی ریلیف دیا جائے؟

آئندہ بجٹ پاکستان تحریک انصاف کا آخری بجٹ ثابت ہوگا، عمران خان اور وزیر خزانہ شوکت ترین کو درپیش چیلنجز کا خلاصہ سامنے آگیاہے۔

تفصیلات کے مطابق اپوزیشن حکومت کی معاشی کارکردگی کو پہلے ہی خاصا آڑے ہاتھوں لے رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے جب پاکستان فنانس کونسل نے جی ڈی پی گروتھ ممکنہ طور پر تین اعشاریہ نو چار فیصد رہنے کا عندیہ دیا تو کیا ن لیگ کیا پیپلز پارٹی، اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے حکومت کے لتے لیتے ہوئے ان اعدادوشمار پر ناصرف سوال اٹھائے بلکہ ان کو غلط ثابت کرنے کی کوشش میں مختلف توجیہات بھی پیش کیں۔ روز بروز بڑھتی مہنگائی پر اپوزیشن تو کیا عوام بھی خاصے نالاں دکھائی دیتے ہیں۔ آٹا، چینی اور چکن سمیت اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر قابو کیسے پانا ہے حکومت کوئی میکنزم تیار نہیں کرپائی۔ وزیر خزانہ شوکت ترین ملکی معیشت کے حوالے سے خاصے پراعتماد دکھائی دیتے ہیں اور انہوں نے مہنگائی کم کرنے کو اپنا ہدف بھی بتایا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ کیسا ہوگا؟ مہنگائی کے مارے عوام کو ریلیف ملے گا یا آنے والے شب و روز مزید تکلیف میں گزریں گے۔

آئندہ بجٹ کے حوالے سے حکومت کو درپیش سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط پوری کی جائیں یا پھر عوام کو کوئی ریلیف دیا جائے؟ آئی ایم ایف کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ گردشی قرضے میں خاطر خواہ کمی کی جائے اور ٹیکس نیٹ بڑھا کر ریونیو میں اضافہ کیا جائے۔ دوسری طرف وزیراعظم عمران خان یہ چاہتے ہیں کہ آئندہ بجٹ میں پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کی مد میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے 900 ارب روپے مختص کیے جائیں۔ اگرچہ ترقیاتی کاموں کو لے کر تبدیلی سرکار پر خاصی تنقید کی جاتی ہے اور اپوزیشن یہ توجیہ بھی پیش کرتی ہے کہ گزشتہ بجٹ میں ترقیاتی کاموں کیلئے 600 ارب روپے رکھے گئے تھے لیکن حکومت عوامی بہبود کے ان منصوبوں پر، صرف 250 ارب روپے ہی خرچ کر سکی تاہم وزیراعظم اور ان کی معاشی ٹیم بجٹ کے حوالے سے اس کوشش میں ہیں کہ چند ایسے اقدامات کیے جائیں جن کے باعث اس حکومت کے عوام دوست ہونے کا تاثر قائم کیا جا سکے۔ وزیراعظم کے قریبی حلقوں کے مطابق اس میں وزیر خزانہ کو خصوصی ٹاسک دیا گیا ہے اور شوکت ترین نے وزیراعظم کو اس بات کا یقین دلایا ہے کہ وہ ڈیمانڈ اور سپلائی کے اصولوں پر مبنی ایسے اقدامات کریں گے جن کی مدد سے مہنگائی میں کمی لائی جا سکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.