پاکستانفیچرڈ پوسٹ

ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والا سفاک اور جلاد صفت گینگ کیوں نہیں پکڑا گیا، یہ گینگ کونسی وارداتیں ڈالتا ہے؟ سنسنی خیز رپورٹ

گینگ گذشتہ ایک دہائی سے زائد عرصہ سے قتل، ڈکیتی، بھتہ خوری، اغوا اور چوری جیسی سنگین وارداتوں میں ملوث رہا ہے

ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والا سفاک اور جلاد صفت گینگ کیوں نہیں پکڑا گیا، یہ گینگ کونسی وارداتیں ڈالتا ہے؟ سنسنی خیز رپورٹ سامنے آگئی۔

تفصیلات کے مطابق خون میں لت پت ایک مغوی شخص زمین پہ لیٹا ہوا ہے اور درد سے چیخ رہا ہے جبکہ کچھ لوگوں نے اسے بازوں اور ٹانگوں سے پکڑا ہوا ہے، دیکھتے ہی دیکھتے سفاکیت کی انتہا کرتے ہوئے اغوا کاروں میں سے ایک نے تیز دھار آلے سے اس مغوی کے بازو اور ناک کاٹ دیے جس کے کچھ ہی دیر بعد مغوی تڑپ تڑپ کر مر جاتا ہے۔ یہ مناظر کسی ڈرانی فلم کے نہیں ہیں بلکہ حال ہی میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ایسی ویڈیو کے ہیں جو وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کے شہر ڈیرہ غازی خان کے سفاک اور بدنام زمانہ لاڈی گینگ نے اپ لوڈ کی ہے۔ دل دہلا دینے والی اس ویڈیو میں نظر آنے والے مناظر سے دیکھا جا سکتا ہے کہ مغوی، جس کی بعد میں شناخت رمضان کے نام سے ہوئی، کو اغوا کار اس قدر اذیت ناک طریقے سے اس لیے قتل کر رہے ہیں کیونکہ انھیں شبہ تھا کہ وہ شخص پولیس کا مخبر ہے اور گینگ سے متعلق معلومات پولیس کو فراہم کر رہا تھا۔

مقامی پولیس کے مطابق جب لاڈی گینگ کے کارندے مخبری کے شبے میں ڈوہری قبیلے کے تین لوگوں کو پکڑنے آئے تو اس موقع پر جھڑپ ہو گئی۔ ان تین افراد کے نام رمضان، خیرو اور خادم تھے۔ جھڑپ کے دوران خیرو مارا گیا جبکہ باقی دونوں افراد کو اغوا کر کے گینگ کے کارندے اپنے ٹھکانے پر لے گئے جہاں رمضان کو بے دردی سے ہلاک کرنے کی ویڈیو اب سامنے آئی ہے جبکہ خادم تاحال لاپتہ ہے۔

پولیس کے مطابق لاڈی گینگ گذشتہ ایک دہائی سے زائد عرصہ سے قتل، ڈکیتی، بھتہ خوری، اغوا اور چوری جیسی سنگین وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس گینگ کے کئی لیڈر اور ارکان گذشتہ کچھ برسوں کے دوران پولیس مقابلوں میں مارے جا چکے ہیں لیکن اب بھی ان کے 25 سے 30 کارندے مقامی لوگوں، پورے علاقے کی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے درد سر بنے ہوئے ہیں۔ ڈیرہ غازی خان اور راجن پورکے پہاڑی اور قبائلی علاقے میں پولیس کو چھوٹو گینگ یا لاڈی گینگ کے مٹھی بھر گینگ ارکان کو قابو کرنے میں ہمیشہ مشکلات کیوں رہتی ہیں۔ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے پہلے ہمیں ان قبائلی علاقوں اور ان کا پولیسنگ کا نظام سمجھنا ہو گا۔ لاڈی گینگ کب اور کیسے وجود میں آیا یہ آگے چل کر، اس سے قبل یہ دیکھتے ہیں کہ اس علاقے میں رائج پولیسنگ سسٹم ہے کیا اور یہ کیسے کام کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.