پاکستان

مسلم لیگ ن میں کس کا بیانیہ چلے گا؟ مریم نواز، شہباز شریف اور نوازشریف کس کا کردار ختم ہوگا؟ اور کون آگے قدم بڑھائے گا؟ بڑا دعویٰ سامنے آگیا

میں بڑی حد تک اس سے اتفاق کرتا ہوں تاہم چوہدری صاحب میں ایک چوتھی خوبی بھی ہے یہ ضد کے بہت پکے ہیں

مسلم لیگ ن میں کس کا بیانیہ چلے گا؟ مریم نواز، شہباز شریف اور نوازشریف کس کا کردار ختم ہوگا؟ اور کون آگے قدم بڑھائے گا؟ بڑا دعویٰ سامنے آگیاہے۔

تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی نے دعویٰ کیا ہے کہ میں نے ایک بار میاں شہباز شریف سے پوچھا تھا چوہدری نثار آپ دونوں بھائیوں کے سب سے قریبی اور پرانے دوست کیوں ہیں؟ مجھے آج بھی یاد ہے میاں شہباز شریف نے فوری طور پر جواب دیا تھا چوہدری صاحب میں تین خوبیاں ہیں یہ ایمان دار ہیں ایک پیسے کے روادار نہیں ہیں دوسرا یہ ذہنی طور پر بہت طاقتور ہیں آپ ان کے سامنے کوئی بھی مسئلہ رکھ دیں یہ چند لمحوں میں اس کا حل تجویز کر دیں گے لوگوں کی شکل دیکھ کر ان کا اندر جان جاتے ہیں اور تیسری خوبی یہ منافق نہیں ہیں یہ سامنے بھی وہی ہیں جو یہ پیٹھ پیچھے ہیں اور میاں نواز شریف اور میں دونوں ان کی ان خوبیوں کے فین ہیں۔

میاں شہباز شریف نے یہ تجزیہ چوہدری نثار کی میاں نواز شریف سے ناراضگی سے پہلے دیا تھا اور میں بڑی حد تک اس سے اتفاق کرتا ہوں تاہم چوہدری صاحب میں ایک چوتھی خوبی بھی ہے یہ ضد کے بہت پکے ہیں یہ جب تک میاں نواز شریف کے ساتھ تھے تو یہ ان کے ساتھ تھے انھیں کوئی ان سے الگ نہیں کر سکا لیکن یہ جب الگ ہوئے تو پھر یہ بیگم کلثوم کے انتقال پر بھی تعزیت کے لیے میاں نواز شریف کے پاس نہیں گئے۔

میاں شہباز شریف نے انھیں قائل کرنے کی کوشش کی ان کو سمجھایا آپ کو بھابھی کلثوم کی تعزیت ضرور کرنی چاہیے لیکن ان کا جواب تھا میں گیا اور اگر اس کے بعد پرویز رشید نے میرے خلاف بیان دے دیا تو؟ میاں شہباز شریف نے سینے پر ہاتھ رکھ کر جواب دیا تھا پرویز رشید ایک لفظ نہیں بولیں گے میں گارنٹی دیتا ہوں چوہدری صاحب نے ٹھیک ہے کہا لیکن اس کے باوجود انھوں نے میاں نواز شریف سے تعزیت نہیں کی یہ اس قدر ضدی ہیں۔ میاں نواز شریف کے ساتھ ان کے اختلافات 12 اکتوبر 1999 کو اسٹارٹ ہو گئے تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.