پاکستانفیچرڈ پوسٹ

صحافیوں پر تشدد کے واقعات، سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے اسٹیبلشمنٹ کو آڑے ہاتھوں لے کر خبردار بھی کر دیا

ریاستی اداروں کو تنبیہ کی کہ اب آئندہ کسی صحافی پر ایسے تشدد نہیں ہونا چاہیے ورنہ وہ 'گھر کی باتیں بتانے پر مجبور ہوں گے: حامد میر

صحافیوں پر تشدد کے واقعات، سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے اسٹیبلشمنٹ کو آڑے ہاتھوں لے کر خبردار بھی کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق صحافی اور یوٹیوب ولاگر اسد طور پر چند روز قبل تین نامعلوم افراد کی جانب سے ان کے گھر میں گھس کر تشدد کے بعد جمعے کی شام ان کی حمایت میں مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے سینئر صحافی حامد میر نے ریاستی اداروں کو تنبیہ کی کہ اب آئندہ کسی صحافی پر ایسے تشدد نہیں ہونا چاہیے ورنہ وہ ‘گھر کی باتیں بتانے پر مجبور ہوں گے۔’ مظاہرے کے دوران حامد میر کی تقریر کا کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا اور حامد میر کے حق اور مخالفت میں ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرنے لگے۔ ان کی تقریر میں کہی گئی کئی باتوں سے واضح تھا کہ ان کی تنقید کا نشانہ ملٹری اسٹیبلشمینٹ ہے۔

یاد رہے کہ اپریل 2014 میں حامد میر پر کراچی میں قاتلانہ حملہ ہوا تھا جس میں ان کو چھ گولیاں لگی تھیں۔ انھوں نے اس حملے کا الزام پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے اس وقت کے سربراہ جنرل ظہیر الاسلام پر عائد کیا تھا۔ صحافی اسد طور کے ساتھ یہ واقعہ منگل کی شب اسلام آباد کے سیکٹر ایف الیون میں پیش آیا تھا جب تین نامعلوم افراد ان کے فلیٹ میں زبردستی داخل ہوئے اور ان کے ہاتھ پاں باندھ کر انھیں زد و کوب کیا اور پھر بعد میں باآسانی فرار ہو گئے۔ اسد علی طور نے پولیس کو اپنے بیان میں بتایا ہے کہ ان پر تشدد کر نے والے افراد پستول سے مسلح تھے اور انھوں نے اسد علی طور کو پستول کے بٹ اور پائپ سے مارا پیٹا۔

حامد میر نے اپنی تقریر میں اسد طور پر ہونے والے حملے کے بارے میں کہا کہ ایک ایسے گھر میں گھس کر حملہ کیا گیا جہاں اسد طور کی مدد کے لیے کوئی موجود نہیں تھا۔ انھوں نے سخت لہجے میں کہا کہ ‘اتنے بہادر ہو تو سینہ تان کر کہو کہ میں اس کے گھر میں گھسا ہوں۔ لیکن تم اتنے بزدل ہو۔۔۔کہ تم یہ تو نہیں مان رہے کہ میں ان کے گھر میں گھسا تھا، تم کہتے ہو، اوہو، وہ کوئی لڑکی کا بھائی تھا جس نے مارا ہے۔’

یاد رہے کہ اسد طور پر ہونے والے حملے کی ابھی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور حکومتی عہدیداروں کی جانب سے اس واقعے کی مذمت کی گئی ہے۔ صحافی اسد طور کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی مذمت اور ان سے اظہار یکجہتی کے لیے جمعے کو اسلام آباد پریس کلب کے باہر سول سوسائٹی اور صحافیوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی جس دوران تقاریر اور نعرے بھی بلند کیے گئے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.