پاکستانفیچرڈ پوسٹ

پاورہاؤسزکوبند کردیا گیا لیکن حکام نےیہ قدم کیوں اُٹھایا؟

ملک کےچارسرکاری پاورہاؤسزکوبند کردیا گیا لیکن حکام نےیہ قدم کیوں اُٹھایا؟ حکومت کے ہوش اُڑا دینے والی رپورٹ سامنے آگئی

ملک کےچارسرکاری پاورہاؤسزکوبند کردیا گیا لیکن حکام نےیہ قدم کیوں اُٹھایا؟ حکومت کے ہوش اُڑا دینے والی رپورٹ سامنے آگئی، ملک کے چار بڑے سرکاری پاور ہاؤسز کو بند کردیا گیا ، جن میں ایسے پاورہاؤسزبھی شامل ہیں جن کی استعداد بڑھانے کےلیےملین ڈالرزکی امداد دی گئی۔ میڈیا رپورٹ کےمطابق بند کیے جانے والے پاورہاؤسزمیں جامشورو،لاکھڑا ،کوٹری ،مظفر گڑھ ،گڈو پاورہاؤسزشامل ہیں جو 4 ہزار سے زائد میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے تاہم وفاقی وزارت پانی وبجلی نے پاور ہاؤسزکو فنی خرابی یا انہیں ناکارہ قرار دے کر بند کردیا جب کہ حکومت کے ریکارڈ میں پاور ہاؤسز کو فعال قرار دیا گیا۔

بتایا گیا ہے کہ پبلک سیکٹر کے پاور ہاؤسز کو بند کرکے نجی شعبے کو تیل گیس فراہم کرکے بجلی کیوں خریدی جارہی ہے سپریم کورٹ اس کا از خود نوٹس لے کر اصل حقائق معلوم کرے ، بندش کے باوجود جامشورو پاور ہاؤس کے اندر ہی کئی بلین ڈالر کی لاگت سے کوئلے کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کے منصوبہ پر بھی کام جاری ہے۔

دوسری جانب لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) میں 699 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والوں کے بلوں سے حکومتی سبسڈی بتدریج واپس لے لی جائے گی ، بجلی کے بلوں پر سبسڈی کا مرحلہ وار خاتمہ صارفین پر بجلی بن کر گرے گا، بلوں پر سبسڈی ختم ہونے سے لیسکو کے مجموعی طور پر 37 لاکھ صارفین سے سستی بجلی کی سہولت چھین لی جائے گی، جن میں پچیس لاکھ شہر کے گھریلو صارفین شامل ہیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق کمپنی کے چار لاکھ تراسی ہزار صارفین پچاس یونٹس تک بجلی استعمال کرتے ہیں، جبکہ تین لاکھ اکتیس ہزار صارفین سو یونٹ تک بجلی استعمال کرتے ہیں ، دستاویزات کے مطابق کمپنی میں نو لاکھ سے زائد صارفین دو سو جبکہ آٹھ لاکھ بہتر ہزار صارفین تین سو یونٹس استعمال کرتے ہیں ، لیسکو کے چار لاکھ چھیانوے ہزار صارفین چار سو یونٹس تک بجلی استعمال کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.