پاکستان

اندرون سندھ کے ڈاکوؤں نے پولیس کے خلاف ایسا قدم اٹھا لیا کہ حکومت کے ہوش اڑ جائیں گے، امن پسند شہریوں کے لئے پریشان کی خبر

پولیس کا فیصلہ کن آپریشن کا آغاز ہونے سے قبل ڈاکوں نے دوسرے گروہوں ڈاکوں سے رابطے میں رہ کر مل کر پولیس سے لڑنے کا فیصلہ کیا ہے

اندرون سندھ کے ڈاکوؤں نے پولیس کے خلاف ایسا قدم اٹھا لیا کہ حکومت کے ہوش اڑ جائیں گے، امن پسند شہریوں کے لئے پریشان کی خبر آگئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق شکارپور ڈاکوں کے خلاف پولیس کا فیصلہ کن آپریشن کا آغاز ہونے سے قبل ڈاکوں نے دوسرے گروہوں ڈاکوں سے رابطے میں رہ کر مل کر پولیس سے لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق ڈاکوں کے خلاف آپریشن کمانڈر تنویر حسین تنیوں کی سربراہی میں ہونے والے آپریشن کے بعد ڈاکوں کے مختلف گروہوں کا آپس میں رابطہ ہوا ہے۔ آپریشن والے مقامات پر کچے کے مختلف علاقوں میں ڈاکوں کی آمد شروع ہو گئی ہے۔جدید اسلحہ اور کھانے پینے کا سامنا بھی ساتھ لے کر پہنچ رہے ہیں۔پولیس زرائع کے مطابق جب بھی کسی علاقے میں پولیس ڈاکوں کے خلاف کوئی آپریشن کرتی ہے تو دیگر کچے کے علاقوں کے ڈاکوں کے گروپ ان کی مدد کو پہنچ جاتے ہیں۔جبکہ سندھ حکومت نے شکار پور کچے آپریشن کیلیے رینجرز اور فوج کی فوری مدد نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

کچے کے علاقے میں ڈاکوں نے 3 سے 4 کلومیٹر کی خندقیں کھودی ہوئی ہیں۔ ڈاکوں نے گھنے جنگل میں درختوں پر مورچے قائم کئے ہوئے ہیں اور انڈر گراونڈ مورچے بھی قائم کررکھے ہیں۔ 23 مئی کو تیغانی گینگ نے پولیس پر حملہ کیا۔ حملے میں 3 پولیس اہلکار شہید اور 8 زخمی ہوئے۔ ڈاکوں نے آر پی جی سیون، آر آر سیونٹی فائیو اور 12.7 اینٹی ائیر کرافٹ گن استعمال کی۔ ڈاکوں نے ایسی گولیاں استعمال کیں جس سے پولیس کی بکتر بند گاڑی متاثر ہوئی، پولیس نے سردار تیغانی سمیت 11 ملزمان کو گرفتار کیا۔ پولیس نے ڈاکوں کے6 ٹھکانوں کو بھی تباہ کیا۔ 25مئی کولاڑکانہ مقابلے میں 2 پولیس اہلکار شہید اور ایک زخمی ہوا۔ پیچھا کرنے پر تینوں ڈاکو ہلاک کردیئے گئے۔حکومتی ذرائع نے کہا کہ کچے میں آپریشن پولیس ہی کرے گی۔ تاہم حساس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مسلسل رابطہ ہے۔ جہاں اور جس وقت ضرورت پڑی ان اداروں کی مدد لی جائے گی۔ سندھ پولیس نے صوبے میں امن و مان کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ تیار کی ہے، جس میں بتایا گیا کہ پولیس کو کچے کے علاقے میں لاجسٹک سپورٹ کی ضرورت ہے۔ پولیس کو آپریشن کیلیے اسلحے سے لیس کشتیاں اور فضائی تعاون کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.