پاکستانفیچرڈ پوسٹ

اسلام آباد میں صحافیوں پر تشدد کرنے والے کون ہیں اور یہ لوگ کونسے جارحانہ عزائم رکھتے ہیں؟ انہیں گرفتار کیوں نہیں کیا جاسکتا؟ دنگ کر دینے والی رپورٹ

صحافیوں کے تحفظ کیلئے کام کرنیوالی تنظیم فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ میں اسلام آباد کو صحافیوں کے لیے ملک کا سب سے خطرناک شہر قرار دیا گیا تھا

اسلام آباد میں صحافیوں پر تشدد کرنے والے کون ہیں اور یہ لوگ کونسے جارحانہ عزائم رکھتے ہیں؟ انہیں گرفتار کیوں نہیں کیا جاسکتا؟ دنگ کر دینے والی رپورٹ آگئی۔

تفصیلات کے مطابق اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس سال پورے ملک میں صحافیوں پر ہونے والے پرتشدد واقعات میں سے ایک تہائی سے زیادہ وفاقی دارالحکومت میں پیش آئے۔ شوکت جاوید پولیس میں انسپکر جنرل کے عہدے پر بھی فائز رہے اور وہ انٹیلی جنس بیورو کے بھی عہدیدار رہ چکے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کو اس طرح کے مقدمات میں سنجیدگی سے تحقیقات آگے بڑھانی چائیں۔ ان کے مطابق پولیس اس بات کو بھی یقینی بنائے کہ ایسے واقعات کی تحقیقات کے دوران دیگر اداروں کا ساتھ بھی حاصل رہے۔ شوکت جاوید کے مطابق اگر کوئی ادارہ ایسے واقعات میں ملوث ہے تو پھر یہ بہت غیر اخلاقی ہے۔ ان کے مطابق جب مجرمان کے چہرے تک سی سی ٹی وی کیمروں میں نظر آ جائیں تو پھر کوئی وجہ نہیں ہے کہ پولیس تحقیقات کو آگے نہ بڑھا سکے اور ایسے مجرمان کو گرفتار نہ کر سکے۔ مقدمات میں پیش رفت نہ ہونے کی وجوہات کے حوالے سے شوکت جاوید نے بتایا کہ بعض اوقات غیر ضروری الزامات بھی عائد کیے جاتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں ہوتا کہ سارے الزامات ہی درست ہوں مگر جب ایسے مجرمان نہیں پکڑے جاتے تو اس سے اداروں اور ملک دونوں کی بدنامی ضرور ہوتی ہے۔

اسلام آباد پولیس کے ترجمان اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل عثمان ٹیپو نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس پر کسی قسم کا کوئی دبا نہیں ہے اور تمام مقدمات کی تحقیقات میرٹ پر کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق پولیس کسی بھی مقدمے میں تفریق نہیں کرتی کہ جرم صحافی کے خلاف ہوا یا کسی اور شہری کے خلاف۔ ان کے مطابق مجموعی طور پر پولیس کی کارکردگی قابل ستائش ہے۔ اسلام آباد میں صحافیوں پر جو حملے ہوئے ان کی تفتیش کسی منطقی انجام تک کیوں نہ پہنچ سکی، اس سوال پر انھوں نے کہا کہ وہ ہر مقدمے کی فائل دیکھ کر ہی بتا سکتے ہیں کہ اب تک صحافیوں کے مقدمات میں تحقیقات کہاں تک پہنچی ہیں۔ یہی سوال جب اسلام آباد پولیس کے سابق سربراہ طاہر عالم اور سابق آئی جی اسلام آباد کلیم امام سے پوچھا گیا تو انھوں نے جواب دینے سے معذرت کر لی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.